انصار بیت المقدس دہشت گرد تنظیم ہے: امریکا

تنظیم مصر میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے مصر میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم انصار بیت المقدس کا نام غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ امریکی حکومت کے فیصلے کے بعد تنظیم کی مالی معاونت سنگین جرم تصور کی جائے گی۔

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انصار بیت المقدس اگرچہ مصر کی ایک مقامی شدت پسند تنظیم ہے جس کا براہ راست عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، لیکن دونوں کے افکار و نظریات یکساں ہیں۔

خیال رہے کہ انصار بیت المقدس کا قیام سنہ 2011ء کے مصری انقلاب کے بعد عمل میں لایا گیا تھا۔ اس تنظیم کے مراکز جزیرہ نما سیناء میں ہیں لیکن تنظیم مصر کے مختلف شہروں میں اہم شخٰصیات، سیکیورٹی حکام اور حکومتی و سیکیورٹی اداروں کے دفاتر پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ اسی تنظیم نے گذشتہ برس مصری وزیر داخلہ پر حملے کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا تھا تاہم پولیس نے یہ کارروائی ناکام بنا دی تھی۔

امریکا کی جانب سے انصار بیت المقدس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن، مصر میں تشدد میں ملوث تنظیموں کے حوالے سے اپنی پالیسی میں سختی لانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ سابق صدر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے کر جماعت پر پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے "رائیٹرز" کے مطابق مصر میں سرگرم عسکری تنظیم انصار بیت المقدس زیادہ پرانی تنظیم نہیں اور نہ ہی تنظیم کے بیرون ملک اثاثوں کی ٹھوس معلومات مل سکی ہیں، تاہم امریکی فیصلے سے یہ واضح ہے کہ بیرون ملک سے کوئی بھی شخص اس تنظیم کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں کر سکے گا۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ انصار بیت المقدس نے گذشتہ جنوری میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر راکٹ حملے میں پانچ مصری فوجیوں کو ہلاک کرنے اور قاہرہ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں فوجی تنصیبات پر دھماکوں میں ملوث رہی ہے جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں