سعودی خاتون کا شوہر کے خلاف غلط بیانی کے الزام میں مقدمہ
غیر ملکی بیوی کی اولاد سعودی اہلیہ کے کھاتے میں درج کرانے کی کوشش
سعودی عرب کے شہر ریاض کی ایک عدالت میں ایک مقامی خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شوہر ایک غیر سعودی بیوی سے ہونے والے بچے کو اس کے قومی شناختی کارڈ کے کھاتے میں رجسٹرڈ کرانا چاہتا ہے۔ مدعیہ بیوی کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر نے دو سال قبل ایک غیر سعودی عورت سے غیر قانونی طریقے سے شادی کی جس کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔ عدم ثبوت کی وجہ سے اب غیر سعودی بیوی کی جگہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی بیوی کا خصوصی کارڈ استعمال کرنا چاہتا ہے۔ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہو گی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مدعیہ کے وکیل احمد الراشد کا کہنا ہے کہ اس کی موکلہ کی کچھ ہی عرصہ پیشتر ایک سعودی شہری سے شادی ہوئی تھی۔ اب پتہ چلا کہ اس کے شوہر کی پہلے سے ایک غیر ملکی خاتون کے ساتھ غیر قانونی شادی بھی ہو چکی ہے جس سے ایک بچہ بھی ہوا ہے۔ چونکہ اس کے پاس غیر ملکی بیوی کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے جس کی بناء پر بچے کی رجسٹریشن نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اس نے سعودی خاتون سے اس لیے شادی کی تھی تاکہ وہ اس کے خصوصی قومی شناختی کارڈ کو غیر ملکی بیوی ہونے والے بچوں کی رجسٹریشن کے لیے استعمال کر سکے۔
سعودی بیوی کی طرف سے دائر درخواست میں عدالت سے شوہر سے طلاق دلوانے اور اسے معنوی طور پر تکلیف پہنچانے پر تین لاکھ ریال جرمانہ کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب میں دروغ گوئی کی بنیاد پر شادیاں رچانے والوں کے لیے سخت قوانین موجود ہیں۔ قانون کی رو سے ایسے شخص کو سات سال قید اور سات لاکھ ریال جرمانہ جیسی سزا ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے اسپتالوں میں زچگی کے لیے آنے والی خواتین کے بارے میں زیادہ چھان بین نہیں کی جاتی۔ صرف محرم کی موجودگی اور خاتون کا شناختی کارڈ چیک کیا جاتا ہے چونکہ سعودی شہری کی غیر ملکی بیوی کے پاس کوئی کارڈ نہیں تھا، اس لیے اس نے دوسری شادی اس لیے کی تاکہ پہلی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔