.

"داعش" کی سفاکیت، 10 نہتے شہری فنا کے گھاٹ اتار دیے

اہل الرقہ کی عالمی برادری سے مدد کی اپیلیں صدا بہ صحرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم القاعدہ کے حامی تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] نے دہشت گردی کی انتہا کر دی ہے۔ متاثرہ تاریخی شہر الرقہ میں دو بچوں کو سرے عام گولیوں سے بھون دیا اور دو کو سر بازار پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہے۔ داعش کی دشہت گردی سے اہل الرقہ سخت پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہتے نوجوانوں کو پکڑ کر چوک اور چوراہوں پر پھانسی پر لٹکانا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "داعش" سے وابستہ گروپ کی سفاکانہ دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ شامی شہر الرقہ کے باشندے بنے ہوئے ہیں جہاں شدت پسند تنظیم نے پچھلے کئی ماہ سے اپنی ایک متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے۔

دو روز قبل داعش کے جنگجوؤں نے الرقہ شہر میں دو بچوں سمیت 10 افراد کو قتل کر کے ظلم کی انتہا کر دی۔ الرقہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے ساتھ دوار النعیم اور دوار تل ابیض کے مقام پر دو نوجوانوں کو پھانسی پر لٹکے دکھایا گیا ہے۔ جنہں پھانسی دینے کے بعد گولیاں ماری گئی ہیں۔ دونوں مصلوب نوجوانوں کو پوسٹروں سے لیپٹا گیا ہے جن پر"مسلمانوں سے لڑنے والوں نے اسی جگہ پر بم دھماکہ کیا تھا" کے الفاظ درج صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔

دیگر افراد میں دو کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔ ان میں سے ایک کی شناخت احمد خلیل کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دوسرے کی احمد خلف کے نام سے کی گئی ہے۔ دونوں ساتویں اور آٹھویں جماعت کے طالب علم بتائے جاتے ہیں۔ دیگر مقتولین میں مہند الخلف، ابراہیم الحسین اور یاسر محرب شامل ہیں۔ ان تمام شہریوں کا تعلق الرقہ شہر سے ہے۔

شہریوں کے سفاکانہ قتل عام کے ساتھ ساتھ داعش کے جنگجوؤں نے الرقہ شہر کی تاریخی اور ثقافتی علامات پر بھی حملے شروع کر دیے ہیں۔ شہر کے وسط میں الرشید گارڈن میں دو شیروں کی مشہور مورتی مسمار کر دی گئی ہے۔ یہ تاریخی علامت سنہ 744ء کے دور میں آشوری خاندان کے دور کی یادگار بتائی جاتی ہے۔

الرقہ میں تاریخی ثقافتی علامات پر حملہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ داعش کے جنگجو مزارات کو بھی اسلامی شریعت کے منافی قرار دیتے ہوئے انہیں بم دھماکوں سے تباہ کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

شہر میں داعش کی کئی ماہ سے جاری سفاکانہ دہشت گردی سے مقامی آبادی سخت نالاں ہے۔ سماجی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے داعش کے جنگجوؤں کو وہاں سے نکال باہر کرنے کے لیے عالمی برادری سے مدد کی اپیلیں کی گئی ہیں۔