.

سعودی عرب:مزید 26 افراد مہلک وائرس مرس سے متاثر

مصر میں سعودی عرب سے لوٹنے والے نوجوان میں مرس کے وائرس کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں مہلک وائرس مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم (مرس) سے متاثرہ مزید چھبیس نئے کیسوں کی تصدیق ہو گئی ہے اور اس سے متاثرہ دواور افراد جان کی بازی ہارگئے ہیں جس کے بعد سعودی عرب میں اس مہلک وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ایک سو سات ہوگئی ہے۔

جمعرات کو دارالحکومت الریاض میں مرس سے متاثرہ دس نئے کیسوں کی اطلاع دی گئی ہے۔سات جدہ ،چار مکہ مکرمہ ،دو شمالی شہر تبوک اور کویت کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے حفرالبطین اور یمن کے نزدیک واقع علاقے نجران میں بھی ایک ایک نیا کیس سامنے آیا ہے۔اس سے پہلے سعودی عرب میں مرس سے متاثرہ دو مریض جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

ان نئے کیسوں کے بعد سعودی عرب میں مرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تین سو اکہتر ہوگئی ہے۔اس طرح ماہ اپریل میں اس مہلک مرض کا شکار ہونے والی افراد کی تعداد میں 89 فی صد اضافہ ہوا ہے۔سعودی عرب میں سار کی طرح کا مرس وائرس دوسال قبل پھیلا تھا جس کے بعد اس سے مرنے والوں کی تعداد ایک سو سات ہوچکی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرس وائرس اوّل اوّل جانوروں اور ممکنہ طور پر اونٹوں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔منگل کو سعودی عرب کے نگران وزیرصحت عادل فقیہ نے شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اونٹوں کے قریب جانے،ان کا دودھ اور اس سے بنی اشیاء کے استعمال سے گریز کریں اور اونٹ کا گوشت بھی نہ کھائیں۔

تاہم الریاض کی اونٹ مارکیٹ سے تعلق رکھنے والے بیوپاریوں اور دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ انھیں سرکاری طور پر مرس اور اونٹ کے باہمی تعلق کے حوالے سے کوئی انتباہ نہیں کیا گیا ہے اور وہ کوئی اضافی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کررہے ہیں۔

سعودی عرب اور عالمی ادارہ صحت کے حکام نے ضعیف العمر افراد ،بچوں اور دائمی بیماریوں کا شکار افراد سے کہا ہے کہ وہ اس سال حج کے لیے نہ آئیں۔تاہم انھوں نے مرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے پیش نظر اور کوئی اضافی پابندی عاید نہیں کی ہے۔واضح رہے کہ رمضان المبارک کے دوران دنیا بھر سے عازمین عمرہ کی بڑی تعداد سعودی عرب پہنچے گی اور اس کے بعد حج کا سیزن شروع ہوجائے گا۔

عالمی ادارہ صحت کے طبی ماہرین کی ایک ٹیم سعودی عرب پہنچ چکی ہے اور وہ سعودی حکام کے ساتھ مل کر اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر کررہی ہے۔اس کے علاوہ یہ ٹیم متاثرہ مریضوں کے معائنے کے بعد مرس کے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سارس کی طرح کا یہ وائرس انسانوں سے ایک دوسرے میں منتقل نہیں ہوتا اور یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے لیکن سعودی عرب میں مرس سے متاثرہ افراد سے ہی دوسرے قریبی لوگوں کو یہ منتقل ہوا ہے۔

برطانوی اور سعودی ماہرین کی اب تک کی تحقیقات کے مطابق یہ وائرس جانوروں سے متعدد مرتبہ انسانوں میں منتقل ہوا ہے مگر یہ وبائی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ تاہم اس تجزیے سے سائنسدانوں کو یہ پتا نہیں چل سکا تھا کہ یہ مہلک وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں کیسے منتقل ہوتا ہے۔البتہ کرونا وائرس کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کا تعلق بھی ایک عشرے قبل پھیلنے والے سارس وائرس کے خاندان سے ہے۔

درایں اثناء ڈبلیو ایچ او نے مصر میں ایک ستائیس سالہ نوجوان میں مرس وائرس کے پائے جانے کی تصدیق کردی ہے اور بتایا ہے کہ اب اس کی حالت بہتر ہے۔متاثرہ نوجوان حال ہی میں الریاض سے مصر لوٹا ہے جہاں وہ بہ سلسلہ روزگار مقیم تھا اور وہاں اس کا چچا پہلے مرس سے متاثر ہوا تھا اور جان کی بازی ہار گیا تھا۔اس نوجوان کو ممکنہ طور پر اپنے چچا ہی سے یہ وائرس منتقل ہوا ہے۔