.

شامی اپوزیشن رہنما، احمد الجربا اوباما سے ملیں گے

شامی صدارتی انتخابات کے تناظر میں اہم پیش رفت متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما شامی متحدہ اپوزیشن سے جلد ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ امریکا بشار رجیم پر مزید اقتصادی پابندیوں کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ شام کے متوقع صدارتی انتخاب میں بشار کا راستہ روکا جا سکے۔

وائٹ ہاوس کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ شامی اپوزیشن کے سربراہ احمد الجربا کی ان دنوں امریکا میں آمد آمد ہے تاہم ان کی آمد کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے، تاہم امکان ہے کہ احمد الجربا کی آمد ایک ہفتے کے اندر اندر ہو گی۔

تین جون کو شام میں صدارتی انتخاب کی تاریخ اور بشارالاسد کا نام بطور امیدوار سامنے آنے کے حوالے سے احمد الجربا کی صدر اوباما اور وزیر خارجہ جان کیری کے ساتھ واشنگٹن میں امکانی ملاقات غیر معمولی اہمیت کی ہو گی۔ الجربا کی آمد اس امر کا اظہار ہے کہ امریکا شامی اپوزیشن کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم کیے ہوئے ہے۔

امریکی انتظامیہ شامی متحدہ اپوزیشن کو شام کی جائز نمائندہ سمجھتی ہے۔ لیکن اس کا عملی رابطوں کی صورت میں امریکا نے پہلا اظہار اسی پیر کے روز احمد الجربا کے متوقع دورہ امریکا کی باضابطہ خبر سامنے لا کر کیا ہے۔

اس سے پہلے جنگ زدہ شام پر امریکی پابندیوں کے اثرات زیادہ نہیں رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شامی خانہ جنگی چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے، ڈیڑھ لاکھ لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اس کے باوجود بشارالاسد ایک مرتبہ پھر صدارت پر قابض رہنے کا اعلان کر چکے ہیں ۔