شام کے باقی ماندہ کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا آغاز
شامی فوج کیمیائی ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے تعاون کررہی ہے:پینٹاگان
شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے باقی ماندہ ذخیرے کو ٹھکانے لگانے کا آغاز کردیا گیا ہے اور شامی فوج اس ضمن میں کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کے مشن کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان رئیر ایڈمرل جان کربی نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چند ماہ کے وقفے کے بعد''کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے ان کی (شام سے) منتقلی کا آغاز ہوچکا ہے''۔
پینٹاگان کے ترجمان کے اس بیان کے بعد یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ شام نے سیرن گیس کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد آئسوپروپنل کے تمام اعلان شدہ ذخیرے کو تباہ کردیا ہے۔
اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ''اب شام کے کیمیائی ہتھیاروں میں سے 7.2 فی صد مواد ہی ملک میں باقی رہ گیا ہے اور وہ تلفی کے لیے تیزی سے بیرون ملک منتقلی کا منتظر ہے''۔
امریکا کے ایک دفاعی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے باقی ماندہ کمیائی ہتھیاروں کو منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
واضح رہے کہ شامی حکومت نے گذشتہ سال امریکا اور روس کی ثالثی میں طے پائے معاہدے کے تحت اپنے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی سے اتفاق کیا تھا لیکن اس نے اپنے ان ہتھیاروں میں کلورین کا ذکر نہیں کیا تھا۔شامی فوج پر حال ہی میں ملک کے مختلف علاقوں میں کلورین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔
کلورین سیرین گیس کے مقابلے میں کئی ہزار گنا کم مہلک ہوتی ہے لیکن کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق کنونشن کے تحت اس کا استعمال بھی غیر قانونی ہے۔شام نے بھی اس کنونشن پر دستخط کررکھے ہیں اور اس کی جانب سے اگر کلورین کے استعمال کا ثبوت مہیا ہوجاتا ہے تو شامی فوج کا اقدام امریکا اور روس کے درمیان طے پائے معاہدے کی شرائط کی بھی خلاف ورزی ہوگا۔
-
ماہ مارچ شامی ہتھیاروں کی تلفی کیلیے اہم ہے، سگرید کاگ
پینتیس فیصد کیمیائی ہتھیار تلفی کیلیے شام حوالے کر چکا ہے
مشرق وسطی -
کیمیائی ہتھیار تلفی، تیزی کیلیے روس شام پر دباو ڈالے: جان کیری
وزرائے خارجہ نے شام کیلیے امن مذاکرات کے اگلے راونڈ پر بھی بات کی
مشرق وسطی -
حلب میں اسدی فوج کے بیرل بم حملے، 94 شامی جاں بحق
برطانیہ، شام کے ڈیڑھ سو ٹن کیمیائی ہتھیار تلف کرنے پر آمادہ
مشرق وسطی -
شام میں پانچ مرتبہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے: اقوام متحدہ
بان کی مون کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کیخلاف پابندیوں کے حامی
بين الاقوامى -
امریکا شام کے کیمیائی ہتھیار سمندر برد کرے گا:او پی سی ڈبلیو
قریباً 1000ٹن کیمیائی مواد کو بحری جہاز کے ذریعے سمندر کی نذر کیا جائے گا
بين الاقوامى -
شام کے کیمیائی ہتھیار سمندر برد کرنے کی تجویز
بیشتر ممالک کا ایک ہزار ٹن کیمیائی ہتھیار اپنی سرزمین پر ٹھکانے لگانے سے انکار
مشرق وسطی