.

پوپ فرانسیس: آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت

پاپائے روم کی بیت لحم میں عبادت ،مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے دعا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رومن کیتھو لک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوسرے روز مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جاِئے پیدائش چرچ آف نیٹویٹی کا دورہ کیا ہے اور اس موقع پر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

پاپائے روم نے بیت لحم کے نزدیک واقع اسرائیل کی تعمیر کردہ علاحدگی کی دیوار کا بھی اچانک دورہ کیا ہے اور اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے فلسطینی اور اسرائیلی صدور کو ویٹی کن سٹی کے دورے کی دعوت دی تھی تاکہ وہ وہاں ان کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے دعا کرسکیں۔

پوپ فرانسیس نے علاحدگی کی دیوار کے نزدیک امن کی دعا کی۔اس موقع پر ایک بچے نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھا تھا اور وہاں کسی نے سرخ الفاظ ''آزاد فلسطین'' لکھ دیا تھا اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بیت لحم کو وارسا گھیٹو سے تشبیہ دی تھی۔اس طرح فلسطینیوں کو نازی جرمنوں کے مبینہ مظالم کا شکار ہونے والے یہودیوں کے مشابہ قراردیا گیا تھا۔

بیت لحم میں اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے پوپ نے مذاکرات کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے کے حل کی ضرورت پر زوردیا اور فریقین سے کہا کہ وہ اپنے اختلافات کا خاتمہ کریں۔انھوں نے فلسطینی صدر محمود عباس اور اسرائیلی صدر شمعون پیریز کو اکٹھے ویٹی کن آنے کی دعوت دی ہے۔

دونوں صدور نے ان کی یہ دعوت قبول کر لی ہے۔ایک فلسطینی عہدے دار کے مطابق صدر محمودعباس 6 جون کو ویٹی کن جائیں گے۔تاہم اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ اسرائیلی صدر اپنے فلسطینی ہم منصب کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی بحالی کا مینڈیٹ لے کر آئیں گے۔

اسرائیل میں آمد

پوپ نے بیت لحم میں فلسطینی مہاجرین کے ایک کیمپ کا بھی دورہ کیا جہاں 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل کیے جانے والے فلسطینی اور ان کی اولادیں رہ رہے ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے ہیلی کاپٹر کے ذریعے تل ابیب کے ہوائی اڈے پر پہنچے جہاں اسرائیلی صدر شمعون پیریز اور وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ان کا استقبال کیا۔

پھر وہ مقبوضہ بیت المقدس پہنچے۔وہاں انھوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کا وجود برقرار رہنے اور اس کے بین الاقوامی سرحدوں کے اندر امن اور سلامتی کے ساتھ رہنے پر زوردیا۔اس کے ساتھ ہی ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ''فلسطینی عوام کے خود مختار مادر وطن کے حق ،ان کے عزت وقار کے ساتھ رہنے اور آزادانہ نقل وحرکت کے حق کو تسلیم کیا جانا چاہیے''۔

انھوں نے نازی جرمنی میں یہودیوں کے قتل عام ہولوکاسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب یہود مخالف جذبات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوسکتی ہے۔انھوں نے اللہ سے دعا کی کہ مستقبل میں اس طرح کا کوئی سانحہ رونما نہ ہو۔شمعون پیریز نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں پوپ فرانسیس کی جانب سے یہود مخالف جذبات اور نسل پرستی کی ہرشکل کے خلاف اظہار خیال پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ پوپ فرانسیس اپنے دورے کے آغاز میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے اردن سے سیدھے بیت لحم پہنچے تھے اور وہ اسرائیل آئے بغیر مغربی کنارے پہنچنے والے پہلے پوپ ہیں۔اس طرح انھوں نے فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے قیام کے لیے ایک مختلف انداز میں اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

ویٹی کن کا کہنا ہے کہ پوپ کے اس تین روزہ دورے کا مقصد کیتھولک اور آرتھوڈکس مسیحی لیڈروں کے درمیان ملاقات کی پچاسویں سالگرہ کے سلسلہ میں تقریب میں شرکت کرنا ہے۔ان دونوں چرچوں نے صدیوں سے جاری اپنے اختلافات کے خاتمے سے اتفاق کیا تھا۔وہ اس سلسلے میں آرتھوڈکس مسیحی دنیا کے روحانی پیشوا قسطنطنیہ ( کانسٹینٹنپول) کے اسقف اول بارتھو لومیو اول سے ملاقات کرنے والے تھے۔