.

مصری صدارتی انتخاب، دو دن میں ٹرن آوٹ 37 فیصد

پچھلے انتخاب میں 52 فیصد ووٹ پڑے، ووٹ نہ ڈالنے پر سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں پہلے سے اعلان کردہ نظام الاوقات کے مطابق صدارتی انتخاب کے لیے دو دنوں میں مجموعی طور پر 37 فیصد تک ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ یہ ٹرن آوٹ محمد مرسی کے صدر منتخب ہونے کے وقت 2012 کے صدارتی انتخاب کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر کم ہے۔ اس وقت ٹرن آوٹ 52 فیصد رہا تھا۔

اسی صورت حال کے پیش نظر مصر کے الیکٹورل کمیشن نے ایک دن کے لیے مزید ووٹرز کو موقع دینے کا فیصلہ کیا تاکہ ٹرن آوٹ بڑھایا جا سکے۔ الیکٹورل کمیشن کے سیکرٹری عبدالعزیز سلمان کے مطابق ٹرن آوٹ 37 فیصدکے قریب رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ووٹ نہ ڈالنے پر شہریوں کو سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

صدارتی انتخاب میں فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے واحد مدمقابل حمدین صباحی نے ایک دن کیلیے ووٹنگ میں توسیع کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ البتہ عبدالفتاح السیسی نے اسے ناپسد نہیں کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ الیکٹورل کمیشن نے اس بارے میں دو نوں امیدواروں کو اعتماد میں لینے یا متفقہ فیصلہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

حمدین صباحی کے مطابق'' صدارتی انتخاب کا عمل اس فیصلے سےمشکوک ہو گیا ہے۔'' ماہ دسمبر میں کالعدم قرار دے دی جانے والی مصر کی سب سے بڑی جماعت اخوان المسلمون کے ایک ممبر نے کہا '' 2011 کی مزاحمتی تحریک کے ابھرنے کے صرف تین سال بعد ایک مرتبہ پھر مصر میں صدارتی منصب پر فوجی شخصیت کو لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ''

دوسری جانب مصری ذرائع ابلاغ نے دو دنوں میں ٹرن آوٹ کے سابق فوجی سربراہ اور صدارتی امیدوار عبدالفتاح کی توقعات سے کم رہنے پر عوام کو جنجھوڑا ہے۔ واضح رہے مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کو برطرف کرنے والے السیسی کیلیے ذرائع ابلاغ میں کافی حمایت پائی جاتی ہے۔

ایک ٹی وی ٹاک شو میں سوال کرنے والی خاتون نے مبصر سے پوچھا اگر کوئی خاتون ووٹنگ کیلیے عام تعطیل کے باوجود گھر میں کھانے پکانے میں مصروف رہے اور ووٹ ڈالنے نہ جائے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہیے۔ ؟ اس کے جواب میں مبصر کا کہنا تھا ''ایسی مصری عورت کو گولی مار دینی چاہیے یا اسے خود کشی کر لینی چاہیے۔