یمن: ایک سو باغیوں سمیت 120 ہلاک
اب دونوں طرف فائر بندی ہو گئی ہے: نائب گورنر
شمالی یمن میں حکومتی فورسز اور شیعہ حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں میں ایک سو باغیوں سمیت 120 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاہم بعد ازاں فریقین میں فائربندی ہو گئی ہے۔
یمن کے صوبہ اومران کے نائب گورنر احمد البکری کے مطابق جنگی جہازوں نے حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملوں اور حوثیوں کے ساتھ تصادم میں ایک سو باغی مارے گئے ہیں۔ جبکہ 20 سرکاری فوجی بھی مارے گئے ہیں۔
نائب گورنر کے مطابق اس خونریز لڑائی کے بعد دونوں فریقوں نے فائر بندی پر اتفاق کر لیا ہے اور اب امن ہو گیا ہے۔ واضح رہے یمن میں 2011 سے بحران چل رہا ہے۔ 2011 کی اسی تحریک کے نتیجے میں یمن کے صدر علی عبداللہ الصالح کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔
یمن میں شمالی علاقوں میں حوثی شیعہ باغی اپنا کنٹرول پکا کرنا چاہتی ہیں۔ یمن کو القاعدہ کی طرف سے بھی اور جنوبی یمن میں بھی باغیوں کا سامنا ہے۔
حکومت اور باغیوں کے درمیان حالیہ تصادم کے واقعات پچھلے ماہ سے شروع ہوئے تھے۔ حوثی باغی حکومت میں شامل سنی مسلمانوں کی اصلاح پارٹی اور صوبہ اومران کی انتظامیہ پر لڑائی کا الزام عاید کرتے ہیں۔
حکومت کی کوشش ہے کہ اگلے سال ہونے والے انتخابات سے پہلے شمالی یمن پر اپنی پوزیشن مضبوط کر لے۔
-
حوثی جنگجوؤں کے حملے میں دو یمنی فوجی ہلاک
یمن کے دارالحکومت صنعا کے نزدیک ایک آرمی بیس پر حوثی شیعہ جنگجوؤں کے حملے میں دو ...
بين الاقوامى -
یمنی فوج اور حوثی باغیوں میں جھڑپیں،24 ہلاک
حوثی باغیوں کی حزم میں سرکاری عمارات پر قبضے کی کوشش،فوج کی مزاحمت
بين الاقوامى -
یمن: حوثی رہنما نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک
مذاکرات کیلیے آنے والے دوسرے حوثی رہنما کی ہلاکت
مشرق وسطی