داعش نے حلب سے 150 کُرد طلباء یرغمال بنا لیے
'یرغمالیوں کو عسکریت پسندی کی تربیت دی جا رہی ہے'
شام کے محاذ جنگ میں سرگرم انتہا پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' نے حلب شہر سے کم سے کم ڈیڑھ سو کرد طلباء کو یرغمال بنا لیا ہے جنہیں ایک ٹریننگ سینٹر میں جنگی تربیت دی جا رہی ہے۔
امریکی ٹی وی 'سی این این' کے مطابق تمام کرد طلباء کو حلب میں عین العرب کے مقام سے ایک اسکول کی طرف جاتے ہوئے بسوں سے اتار کر اغوا کیا گیا۔ یرغمال بنائے جانے والے طلباء کی عمریں پندرہ سے اٹھارہ سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔
کُرد ڈیموکریٹک الائنس کے رکن نوری محمود نے داعش کے ہاتھوں طلباء کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام طلباء الشریعہ اسلامک اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ اغواء کے بعد انہیں منبج شہر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں عسکریت پسندی کی تربیت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ داعش کے جنگجو کم عمر طلباء کو جنگی تربیت دے کر انہیں دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
انسانی حقوق آبزرویٹری برائے شام کے مطابق حکومت نے طلباء کو کرد اکثریتی علاقے میں امتحانی پرچے دینے سے منع کر دیا تھا اور ان کے امتحانی مراکز شہر سے باہر قائم کیے جس کے نتیجے میں داعش نے طلباء کو یرغمال بنا لیا۔
-
داعش کا شام چھوڑنے سے انکار،القاعدہ سربراہ پر تنقید
ڈاکٹر الظواہری غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے محمد الجولانی کو تبدیل کریں:ترجمان
مشرق وسطی -
شام: داعش اور الرقہ کے عیسائیوں میں جزیہ کی ادائیگی کا معاہدہ
القاعدہ کی ذیلی تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] اور شامی شہر الرقہ کے ...
مشرق وسطی -
داعش نے شام میں اپنا ویمن بریگیڈ بھی تشکیل دے دیا
مسلح خواتین کی الرقہ میں گشت؛ خواتین کی تلاشی، گرفتاریاں
مشرق وسطی