کویتی عدالت: تین سابق ارکان پارلیمنٹ کی سزائے قید ختم
سزا امیر کویت کی توہین کرنے پر ماہ فروری میں ہوئی تھی
کویت کی سپریم کورٹ نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے تین سابق ارکان پارلیمنٹ کو ملنے والی سزائے قید معطل کر دی ہے۔ ان تینوں پر الزام تھا کہ انہوں نے سرعام امیر کویت کی توہین کی تھی۔
عدالت نے یہ سزا اپیل کورٹ میں دائر کردہ اپیل کی بنیاد پر معطل کی ہے۔ عدالت نے اس موقع پر فلاح السواغ خالد اور بدر الداحم وغیرہ کو دو ہزار کویتی دینار زر ضمانت کے طور پر جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
ماہ فروری میں ماتحت عدالت نے ان قانون سازوں کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی کہ ان تینوں نے اکتوبر 2012 کے دوران ایک ریلی میں امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کیا تھا۔
پانچ ماہ بعد اپیل کورٹ نے سزا ختم کر دی ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ مذکورہ افراد اپنا نکتہ نظر بیان کر رہے تھے اور انہوں نے امیر کے اختیار کو چیلنج نہیں کیا ہے۔
واضح رہے تینوں ارکان پارلیمنٹ نے ریلی کے دوران انتخابی قوانین کو مجوزہ ترامیم پر اپنی مخالفانہ رائے دی تھی۔ ابتدائی فیصلے کو ایک رکن پارلیمنٹ نے سیاسی قرار دیا تھا۔
-
امیر کویت نے اپنی توہین کے مجرموں کی سزا معاف کر دی
رمضان کے باعث معافی پانے والوں میں خواتین کارکن بھی شامل ہیں
مشرق وسطی -
امیر کویت کی توہین پراپوزیشن لیڈر کو پانچ سال قید کی سزا
مسلم البراک پراکتوبر 2012ء میں شیخ صباح مخالف تقریر کا جرم ثابت
مشرق وسطی -
ٹویٹر پر امیر کویت کی ''توہین'' کے مرتکب کو 10 سال قید کی سزا برقرار
سپریم کورٹ نے ماتحت عدالت کے فیصلے کی توثیق کر دی
بين الاقوامى -
ٹویٹر پر امیر کویت کی توہین کے مرتکب نوجوان کو دو سال قید کی سزا
امریکا کو کویت میں آزادیٔ اظہار رائے پر قدغنوں پر تشویش
بين الاقوامى -
امیر کویت کی توہین کا الزام، اپوزیشن لیڈر پر فرد جُرم عاید
سابق رکن اسمبلی کو تفتیش کے لیے زیر حراست رکھنے کا حکم
بين الاقوامى -
کویت کے سابق رکن پارلیمان پر بدستور سفری پابندی عاید
امیر کویت پر تنقید کے الزام میں قائم مقدمے کی سماعت کے موخر
بين الاقوامى