عراقی فوج کا تکریت اور موصل داعش پر جوابی حملہ
کارروائی کا مقصد جنگجووں کی پیش قدمی روکنا ہے
عراقی فورسز نے دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' اور مقامی مسلح افراد کے حملوں کا جواب دینے کے لئے صدام حسین کے آبائی شہر تکریت، مرکز صلاح الدین سمیت جنوبی موصل کے علاقوں پر شدید بمباری کی ہے۔
نوری المالکی نے بیجی کے علاقے میں چھاتہ بردار کمانڈوز بھی اتارے ہیں جنہوں نے علاقے میں تیل کی تنصیبات اور آئل ریفائنری کے حفاظتی حصار قائم کر لیا ہے تاکہ جنگجو انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔
عراقی فوج نے دارلحکومت بغداد کے گرد بھی حفاظتی حصار قائم کیا ہے، جس میں رہائشی کالونیوں کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ ادھر اہل تشیع کی سرکردہ مذہبی شخصیت آیت اللہ العظمی علی السیستانی کی ہدایت پر عراقی نوجوانوں کی بڑی تعداد داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنا نام بطور رضاکار لکھوا رہی ہے۔
ایک ملتی جلتی پیش رفت میں مقامی اخبارات کے اندر الصدری جماعت کے رہنما مقتدی الصدر کا بیان نقل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے جیش المھدی نامی ملیشیا کو تمام شہروں میں فوجی پریڈ منعقد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مقتدی الصدر کے بقول انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ مرتے دم تک دہشت گردی کے خلاف لڑائی جاری رکھیں۔
-
داعش کا صدام حسین کے آبائی شہر تکریت پر قبضہ
جہادیوں نے تکریت جیل پر قبضے کے بعد سیکڑوں قیدیوں کو رہا کردیا
مشرق وسطی -
عراقی شہر تکریت میں خود کُش حملہ، 9 جاں بحق
حملہ 12 صوبوں میں بلدیاتی انتخاب سے قبل کیا گیا
بين الاقوامى -
موصل کو 'داعش' کے لیے ترنوالا بنانے والے عراقی فوجی
اعلی افسران کی نشاندہی سب سے پہلے گورنر نینوا نے کی
مشرق وسطی -
دولت وثروت میں 'داعش' کی معاصر گروپوں پر فوقیت
موصل کے بنکوں اور تجاری مراکز میں جنگجو گروہ کی لوٹ مار
مشرق وسطی -
موصل پر داعش کا قبضہ، پانچ لاکھ افراد کی ہجرت
زیر قبضہ علاقوں میں اہم عمارات پر مسلح افراد تعینات
مشرق وسطی -
موصل مالکی مخالف مظاہرے کے دوران عراقی کی خود سوزی
سنی اکثریتی علاقوں میں وزیر اعظم مالکی کے خلاف احتجاج جاری
مشرق وسطی