.

عراق:آیت اللہ علی سیستانی کا نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ

مجوزہ نئی حکومت قومی سطح پر قابل قبول ہو اور ماضی کی غلطیوں سے گریز کرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ علی سیستانی نے وزیراعظم نوری المالکی پر بہ انداز دیگر تنقید کرتے ہوئے ایک مؤثر اور فعال نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جو ان کے بہ قول قومی سطح پر قابل قبول ہو اور ماضی کی غلطیوں سے گریز کرے۔

جنوبی شہر کربلا میں ان کے نمائندے احمد الصافی نے جمعہ کو ان کا پیغام پڑھ کر سنایا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے سیاسی بلاکوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک فعال حکومت کے قیام کے لیے مذاکرات کا عمل شروع کریں۔ایسی حکومت جس کو وسیع تر قومی حمایت حاصل ہو، وہ ماضی کی غلطیوں سے گریز کرے اور تمام عراقیوں کے بہتر مستقبل کے لیے نئے در وا کرے''۔

ایرانی نژاد آیت اللہ علی سیستانی کی عمر اس وقت چھیاسی برس بتائی جاتی ہے۔وہ جنوبی شہر نجف اشرف میں رہتے ہیں اور پیرانہ سالی کی وجہ سے شاذ ہی اپنے گھر سے نکلتے ہیں اور انٹرویوز بھی نہیں دیتے ہیں۔انھوں نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں اپنے پیروکاروں کو شمالی عراق میں مسلح بغاوت برپا کرنے والے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کے مقابلے کے لیے فوج میں بھرتی ہونے کی ہدایت کی تھی۔

لیکن آج انھوں نے بظاہر اپنے بیان میں وزیراعظم نوری المالکی کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کی ضرورت پر زوردیا ہے۔نوری المالکی کو اس وقت اندرون اور بیرون ملک سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔سعودی عرب نے ان کی فرقہ وارانہ پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے اور سنی عربوں کو دیوار سے لگانے کی مذمت کرتے ہوئے قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ عراق کو اس وقت قومی اتحاد کی حکومت کی ضرورت ہے خواہ یہ حکومت مالکی کے بغیر تشکیل پائے یا ان کی شمولیت سے قائم ہو تاکہ سنی باغیوں کی مزاحمت کاری کا توڑ کیا جاسکے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ نے نوری المالکی کو تمام گروپوں پر مشتمل حکومت کی تشکیل میں ناکامی کا قصور وار ٹھہرایا ہے اور ان کا کہنا ہے ،اس وقت اہم بات یہ ہے کہ اعتدال پسند سنیوں کو حکومتی امور میں شامل کیا جائے تاکہ وہ دہشت گرد گروپ داعش کا ساتھ نہ دیں۔

عراقی اور غیرملکی لیڈر نوری المالکی کی حکومت کی اہل سنت کو دیوار سے لگانے کی پالیسیوں ہی کو موجودہ بحران کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں اور وہ اب ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ وہ ملک میں 30 اپریل کو منعقدہ پارلیمانی انتخًابات کے بعد تیسری مدت کے لیے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔

امریکی صدربراک اوباما بھی ان کی حمایت سے دست کش ہوگئے ہیں اور انھوں نے جمعرات کو نوری المالکی کے مستقبل کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ عراق کے لیڈروں سے متعلق فیصلہ کرنا امریکا کا کام نہیں ہے۔

انھوں نے کہا:''شیعہ ،سنی ،کردوں سمیت تمام عراقیوں کو اس بات کا اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ تشدد نہیں بلکہ سیاسی عمل ہی کے ذریعے اپنے مفادات اور امنگوں کو آگے بڑھا سکتے ہیں اور یہ بات واضح ہے کہ ایک اجتماعی ایجنڈے کے ذریعے ہی لیڈر عراقی عوام کو اکٹھے رکھ سکتے ہیں اور اس بحران سے نکل سکتے ہیں''۔انھوں نے خبردار کیا کہ وہ ایسے سیاسی آپریشنز کی اجازت نہیں دیں گے جس سے عراق میں ایک فرقے کی دوسرے پر بالادستی قائم ہوجائے۔

واضح رہے کہ عراق کے آئین کے تحت نومنتخب پارلیمان کا 30 جون کو لازمی طور پر پہلا اجلاس بلایا جانا چاہیے۔اس میں وہ نئے اسپیکر اور ملک کے نئے صدر کا انتخاب کرے گی۔اس کے بعد نئے صدر عام انتخًابات میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والے بلاک کے رہ نما کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔