بیروت: شیعہ اکثریتی علاقے میں خود کش دھماکہ
ایک ہلاک متعدد زخمی۔ فوج چیک پوسٹ اور کیفے نشانہ بنا
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں قائم فوجی چیک پوسٹ پر کیے گئے خود کش دھماکے سے کم ازکم پانچ افراد زخمی ہو گئے، کئی گاڑیوں کو سخت نقصان پہنچا اور مبینہ خود کش حملہ آور ہلاک ہو گیا ہے۔
اس خوفناک دھماکے سے قریب ہی موجود ایک کیفے کے باہر کھڑی گاڑیوں کو بھی سخت نقصان پہنچا۔ پیر اور منگل کی درمیانی شب کو ہونے والے اس خود کش دھماکے کے وقت کیفے میں درجنوں لوگ عالمی فٹ بال کپ کے سلسلے میں میچ دیکھنے میں مصروف تھے۔
اطلاعات کے مطابق کیفے میں موجود فٹ بال کے بعض شائقین بھی زخمی ہو گئے ہیں۔ جبکہ کیفے کی کھڑکیوں اور ارد گرد کی عمارات کو بھی جزوی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
''العربیہ'' کے نمائندہ عدنان غلموش کے مطابق خود کش حملہ آور نے شیعہ گروپ امل کے گڑھ جنوبی بیروت کو نشانہ بنایا ہے۔ امل کو شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا حامی گروپ سمجھا جاتا ہے۔ واضح رہے جنوبی بیروت میں حالیہ ماہ کے دوران پہلے بھی کئی دھماکے ہو چکے ہیں۔
حالیہ چار دنوں میں بیروت میں یہ دوسرا خود کش حملہ ہے۔ فوجی چیک پوسٹ پر کیے گئے اس حملے سے محض تین روز پہلے مشرقی بیروت کے علاقے میں ایک خود کش حملہ آور نے پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔
واضح رہے لبنان شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے دہشت گردی کی زد میں ہے۔ لبناانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ بشار رجیم کی اتحادی ہے اور شامی عوام کے خلاف لڑ رہی ہے۔
اس صورت حال میں سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔
-
بیروت کار بم دھماکے سے لرز اٹھا، پانچ ہلاک متعدد زخمی
دھماکہ حزب اللہ کے مضبوط گڑھ میں ہوا
مشرق وسطی -
بیروت کے جنوبی علاقے میں کار بم دھماکا، 4 افراد ہلاک، 60 زخمی
حزب اللہ کے ملکیتی 'المنار' ٹیلی ویژن کی عمارت کے نزدیک ایک اور حملہ
مشرق وسطی -
بیروت دھماکے، ایران نے اسرائیل پر ذمہ داری ڈال دی
یہ ہم سب کیلیے خطرے کی گھنٹی ہے: ایرانی وزیر خارجہ
مشرق وسطی