لاپتا یہودیوں کی کنوؤں اور قبرستانوں میں تلاش

فلسطینیوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

دو ہفتے قبل مقبوضہ مغربی کنارے سے لاپتا ہونے والے تین یہودی لڑکوں کی تلاش میں اسرائیل کے تمام سیکیورٹی اداروں نے غرب اردن کے چپے چپے کو چھان مارا ہے لیکن ان کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ متعدد بار گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے بعد اب لاپتا یہودی لڑکوں کو پانی کے کنوؤں اور قبرستاوں میں بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے غوطہ خور کمانڈوز نے مغربی الخلیل میں"بیت کاحل" کے مقام پر عطاونہ خاندان کے ملکیتی پانی کے تین کنوؤں میں بھی لاپتا یہودیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیلی غوطہ خوروں نے کئی گھنٹے کنوؤں میں اتر کر تلاش کی کارروائی جاری رکھی۔ بعد ازاں شہریوں کے گھروں میں دوبارہ تلاشی لی گئی اور مانیٹرنگ کیمروں کی فوٹیج قبضے میں لے لی گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چودہ روز قبل الخلیل شہر سے لاپتا ہونے والے یہودیوں کی تلاش کے لیے اسرائیلی فوج ہمہ پہلو کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ممکنہ طور پر یہودیوں کے اغواء کے بعد قتل کے خدشے کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پانی کے کنوؤں میں ان کی میتیں ڈھونڈنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

فلسطینی شہری عدنان عطاونہ نے بتایا کہ جمعرات کو یہودی فوجیوں کی بڑی تعداد نے ان کے مکانات کو گھیرے میں لے لیا اور پانی کے کنوؤں کے بارے میں پوچھنے لگے۔ ہم نے کنوؤں کی طرف اشارہ کیا تو اسرائیلی غوطہ خور کمانڈوز نے فورا ان میں چھلانگیں لگا دیں۔

عدنان کے بھائی عائش عطاونہ نے بتایا کہ جب یہودی فوجی ایک کنوئیں میں اترے تو دوسروں نے پوچھا کہ دوسرا کنواں کہاں ہے؟ ہم نے اس کی طرف اشارہ کیا۔ وہ گھر میں موجود ہر چیز کے بارے میں سوال کرتے۔ بعد ازاں انہوں نے کمپیوٹر میں محفوظ مانیٹرنگ کیمرے کی ریکارڈنگ بھی قبضے میں لے لی۔

یہودی آباد کاروں کی تلاش پانی کے کنوؤں تک محدود نہیں بلکہ فلسطینی قبرستان حتیٰ کہ قبروں کے اندر تک انہیں ڈھونڈنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ الخلیل شہر میں گذشتہ چند ایام میں کئی بڑے قبرستانوں کی میں سرچ آپریشن کیا گیا۔

درایں اثناء اسرائیلی حکومت نے فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو تین لاپتا یہودی لڑکوں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے فلسطینیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیوں اور سرچ آپریشن کو مزید وسعت دینے کی اجازت دے دی ہے۔ اسرائیلی کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کے گذشتہ روز منعقدہ اجلاس میں یہودی آباد کاروں کے مبینہ اغواء پر فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز روکنے پر بھی غور کیا گیا۔

ادھر مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس سے سابقہ معاہدے کے تحت رہا کیے گئے فلسطینیوں کی دوبارہ گرفتاری کے بعد انہیں پراسیکیوٹر جنرل کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی سیکیورٹی حکام نے سفارش کی ہے کہ دوبارہ حراست میں لیے گئے تمام افراد کی سابقہ سزاؤں کو بحال کر کے وہیں سے ان کا ٹرائل دوبارہ شروع کیا جائے کیونکہ انہوں نے رہائی کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔

ذرائع کے مطابق بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیران کی جانب سے ہڑتال ختم کرنے کے اعلان پر اسرائیلی حکومت نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔ قیدیوں کی بھوک ہڑتال کے تسلسل کے باعث اسرائیلی حکومت کو سخت پریشانی کا سامنا تھا۔ بھوک ہڑتال کے باعث مغربی کنارے میں اسرائیل کا سرچ آپریشن اور حماس کی بیخ کنی کے لیے جاری وحشیانہ کریک ڈاؤن بھی متاثر ہو رہا تھا۔ تاہم قیدیوں کی بھوک ہڑتال معطل ہونے کے بعد اسرائیلی حکومت نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

فلسطینی اسیران نے رمضان المبارک کی وجہ سے بھوک ہڑتال معطل کی ہے، اس لیے یہ امکان موجود ہے کہ عید کے بعد وہ دوبارہ بھوک ہڑتال شروع کر سکتے ہیں۔ بھوک ہڑتال کرنے والے قیدی بغیر کسی الزام اور مقدمہ چلائے جیلوں میں ڈالے گئے ہیں۔

تین یہودی آباد کاروں کی گمشدگی کے بعد مزید سیکڑوں افراد کو انتظامی حراست میں ڈالا گیا ہے۔ اس لیے پیش آئند بھوک ہڑتال زیادہ سخت اور بڑے پیمانے پر ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں