.

داعش کا کالعدم بعث پارٹی کے متعلقین کے خلاف کریک ڈاؤن

صدام حسین کی جماعت کے سرکردہ ارکان اور کالعدم فوج کے متعدد اعلیٰ افسر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمال اور شمال مغربی علاقوں میں اپنی خلافت کا اعلان کرنے والے گروپ دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے اب اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے سابق صدر صدام حسین کی جماعت بعث پارٹی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات اور سابق فوجی افسروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔

گذشتہ ہفتے دولت اسلامی کے جنگجوؤں نے شمالی شہر موصل میں سابق عراقی فوج کے ایک اعلیٰ افسر کے گھر پر چھاپہ مارا تھا اور وہاں سے سابق میجر جنرل کو اپنے ساتھ گاڑی پر بٹھا کر لے گئے تھے۔گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سیاہ لباس میں ملبوس داعش کے ان جنگجوؤں نے موصل شہر سے پچیس سے ساٹھ کے درمیان سابق فوجی افسروں اور بعث پارٹی کے ارکان کو گرفتار کیا ہے اور ان کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا کہ انھیں کہاں لے جایا گیا ہے یا ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔

گرفتار اڑسٹھ سالہ ریٹائرڈ میجر جنرل کے بیٹے کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے باپ کو اس طرح اٹھا لے جانے کے بعد جنگجوؤں سے رابطہ کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ آپ جو کچھ کررہے ہیں،یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے۔ یہی کچھ تو وزیراعظم نوری المالکی کی فورسز کررہی ہیں۔اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آپ کو زیادہ شور مچانے کی ضرورت نہیں اور وہ پوچھ تاچھ کے بعد میرے والد کو چھوڑ دیں گے۔

لیکن داعش کے جنگجوؤں کے بعث پارٹی اور سابق عراقی فوج کے عہدے داروں کے خلاف کریک ڈاؤن کو سنی اتحاد کے درمیان چپقلش کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے حالانکہ اسی سنی اتحاد نے گذشتہ ماہ صحرا کی جانب سے آنے والے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کو موصل پر قبضے میں مدد دی تھی۔

داعش نے سابق صدر صدام حسین کے وفاداروں اور مسلح سنی قبائل کی مدد سے جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا،وہاں اپنی اسلامی خلافت قائم کردی ہے اور نام کو بھی مختصر کرکے صرف دولت اسلامی کردیا ہے۔اب وہ کالعدم بعث پارٹی کے سابق متعلقین اور صدام فوج کے سابق افسروں کو یہ حکم دے رہے ہیں کہ وہ خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کرکے ان کے ساتھ اظہار وفاداری کریں۔
صوبہ نینویٰ کے گورنر اثیل نجیفی نے کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل سے رائیٹرز کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''میرے خیال میں داعش یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اب وہ زمین پر واحد گروپ ہیں ،لوگ ان کی پیروی کریں اور ہتھیار پھینک دیں''۔

اثیل نجیفی موصل پر گذشتہ ماہ داعش کے قبضے کے بعد بھاگ کر اربیل چلے گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ داعش کے جنگجوؤں نے جن سابق عہدے داروں کو گرفتار کیا ہے،ان میں صدام دور میں اسپیشل فورسز کے کمانڈر جنرل وعد حنوش اور بعث پارٹی کے سرکردہ لیڈر سیف الدین المشاہدانی بھی شامل ہیں۔ان کا نام امریکی فوج کو مطلوب افراد کی فہرست میں بھی شامل تھا۔

عراق کے ایک شیعہ رکن پارلیمان حیدر عابدی کا کہنا ہے کہ ''دولت اسلامی ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کررہی ہے۔داعش کے جنگجو جانتے ہیں کہ اگر یہ گروپ ان کے مخالف ہوگئے تو پھر ان کی بقا ممکن نہیں ہوگی۔اس لیے وہ ان کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''داعش نے پہلے اپنے دوست سابق بعثیوں سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ تعاون کریں اور انھوں نے ایسے ہی کیا لیکن اب داعش ان کو کک آؤٹ کررہے ہیں۔ان میں سے بعض بیعت کرلیں گے اور جن کے بارے میں انھیں یقین ہوگا کہ وہ وفاداری کا اظہار نہیں کریں گے،انھیں وہ تہ تیغ کردیں گے''۔

عراق کے ایک انٹیلی جنس افسر نے بھی صدام دور کے افسروں کی گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا محرک لوگوں میں خوف وہراس پھیلانا ہے یا انتقام لینا ہے یا عراقی حکومت کے ساتھ انھیں کسی قسم کے تعاون سے روکنا ہے۔

واضح رہے کہ اگرچہ نوری المالکی کی مخالفت میں داعش ،سنی قبائل اور بعث پارٹی کے سابق متعلقین کے درمیان گذشتہ ماہ اتحاد قائم ہو گیا تھا لیکن تاریخی طور پر ان میں دشمنی پائی جاتی ہے کیونکہ مسلح سنی قبائل نے 2006ء اور 2007ء میں امریکی فوج کے عراق پر قبضے کے دوران دولت اسلامی کی پیش رو القاعدہ تنظیم کے خلاف جنگ لڑی تھی اور اس کو سنی اکثریتی صوبوں سے نکال باہر کیا تھا۔

عراقی القاعدہ یا داعش نظریاتی طور پر اپنی ہم نوا جنگجو تنظیموں کے ساتھ بھی اتحاد کی روادار نہیں ہے اور وہ کسی دوسرے گروہ کو اپنے ساتھ قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔پڑوسی ملک شام میں اس نے یہی کیا ہے اور وہاں وہ ایک طرف تو شامی فوج کے خلاف محاذ آراء ہے اور دوسری جانب اس کی القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ اور دوسرے باغی گروپوں کے ساتھ بھی لڑائی ہورہی ہے۔