اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے: محمود عباس
مصر نے اسرائیلی جارحیت رکوانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کردیں
فلسطینی صدر محمود عباس غزہ میں اسرائیل کی فوجی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وہاں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔
غزہ پر اسرائیلی فوج کے جارحانہ فضائی حملوں میں پچاس سے زیادہ فلسطینی شہید اور تین سو ستر زخمی ہوچکے ہیں۔محمود عباس نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی قیادت کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت سے پیدا ہونے والی صورت پر غور کیا گیا ہے۔
صدر محمود عباس نے اسرائیلی جارحیت کو نسل کشی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پورے پورے فلسطینی خاندانوں کی ہلاکتیں نسل کشی ہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''اس وقت جو کچھ رونما ہو رہا ہے،یہ مزاحمتی دھڑوں کے خلاف نہیں بلکہ تمام فلسطینی عوام کے خلاف جنگ مسلط کی جارہی ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ اسرائیل اپنا دفاع نہیں کر رہا ہے بلکہ یہودی بستیوں کا دفاع کر رہا ہے جو اس کا بڑا منصوبہ ہیں''۔
انھوں نے کہا کہ "اسرائیلی جارحیت اور فلسطینی خون کو بہنے سے روکنے کے لیے ہم مختلف طریقوں سے پیش رفت کررہے ہیں اور اس ضمن میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون سے بات کی جارہی ہے''۔
اسرائیلی فوج نے بدھ کو دوسرے روز غزہ کی پٹی میں قریباً دوسو اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ دوسری جانب فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی جارحیت کے باوجود جوابی راکٹ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے بعد اسرائیل نے ہزاروں کی تعداد میں فوجی غزہ کی پٹی کی سرحد کے ساتھ تعینات کردیے ہیں اور وہ فلسطینی علاقے پر زمینی چڑھائی کی تیاری کررہا ہے۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد کہا ہے کہ ''فوج تمام ممکنات کے لیے تیار ہے۔حماس کو اسرائیلی شہریوں کی جانب فائرنگ کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔اسرائیلی شہریوں کی سکیورٹی مقدم ہے اور آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمارے قصبوں کی جانب فائر کو روک نہیں دیا جاتاہے''۔
غزہ میں اسرائیلی جارحیت میں شدت کے بعد مصر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ فریقین سے رابطے میں ہے لیکن وزارت خارجہ کے ترجمان بدرعبدالعاطی کا کہنا ہے کہ فی الوقت معروف معنوں میں کوئی ثالثی نہیں ہورہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ''مصر کی سفارتی کوششوں کا مقصد اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر رکوانا اور ہر طرح کے باہمی تشدد کا خاتمہ ہے لیکن ابھی مصری روابط کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے''۔
درایں اثناء امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ تمام فریقوں پر کشیدگی کے خاتمے پر زور دے رہا ہے لیکن ساتھ ہی اس نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
اسرائیل کے جنگی طیاروں نے گذشتہ دوروز میں غزہ کی پٹی میں 550 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے جواب میں 165 راکٹ فائر کیے ہیں۔ان میں سے بعض مقبوضہ بیت المقدس اور تل ابیب میں بھی جا کر گرے ہیں۔اسرائیلی بمباری میں شہید اور زخمی فلسطینیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
-
غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں میں 22 فلسطینی شہید
اسرائیل کے جنوبی قصبوں میں غزہ سے راکٹ حملوں کے بعد افراتفری کا عالم
مشرق وسطی -
اسرائیل کے جنگی طیاروں کی غزہ پر وحشیانہ بمباری
پیر اور منگل کی درمیانی شب پچاس مقامات کو نشانہ بنایا
مشرق وسطی -
غزہ پر فوجی چڑھائی: اسرائیلی حکمراں اتحاد میں دراڑ
انتہا پسند وزیرخارجہ لائبرمین کی جماعت حکومتی اتحاد سے الگ ہوگئی
مشرق وسطی -
غزہ کے معاملے پر ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کیا جائے:نیتن یاہو
انتہا پسند اسرائیلی وزراء کا غزہ کی پٹی میں بڑے جارحانہ فوجی آپریشن کا مطالبہ
مشرق وسطی -
غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے 09 فلسطینی شہید
اسرائیلی لڑاکا اور جاسوس طیاروں نے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا
مشرق وسطی -
غزہ سے اسرائیل پر راکٹوں کی بارش
اسرائیلی وزیر بھی زیر زمین بنکر میں پناہ لینے پر مجبور
مشرق وسطی