.

داعش نوادرات اور آثار قدیمہ سے ڈالر بنانے میں سرگرم

آثار قدیمہ کو کھود اور اکھاڑ پھینکنے کی وجہ ڈالر ہیں: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں خلافت کا اعلان کرنے والی عسکریت پسند تنظیم داعش نے چھپائے گئے ڈالروں کی تلاش شروع کر رکھی ہے۔

برطانوی اخبار ''سنڈے ٹائمز'' کے مطابق اس مقصد کے لیے اپنے زیر قبضہ آنے والے آثار قدیمہ سے متعلق اداروں اور مقامات کو بھی چھانا جا رہا ہے اور انہیں فروخت کر کے ڈالر حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق داعش نے نوادرات کی لوٹ مار کرنے والوں پر ٹیکس بھی عاید کر دیا ہے تاکہ اس راستے سے بھی ڈالر کمائے جا سکیں۔
شام سے تعلق رکھنے والے امریکی یونیورسٹی آف پنسلوینیا کے وزیٹنگ پروفیسر امر الاعظم کے مطابق داعش کے زیر قبضہ آنے والا علاقہ قدیمی میسو پو ٹیمیا کا علاقہ ہے جو نوادرات اور آثار کے حوالے سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔

پروفیسر امر الاعظم کے مطابق '' داعش واضح طور پر اس معاملے میں ملوث ہے، اس مقصد کے لیے وہ نہ صرف ہر چیز کو کھود رہے ہیں بلکہ ہر چیز کو روندتے جا رہے ہیں۔

یونیسکو کے عالمی ورثے کے شعبہ سے تعلق رکھنے والی ندا الحسن عرب دنیا کے لیے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے آٹھ سو قبل مسیح سے تعلق رکھنے والا سیاہ پتھر جس کی حالیہ اپریل میں مالیت سات لاکھ پچانوے ہزار پاونڈ تھی اب فروخت کی فہرست سے الگ کر دیا گیا ہے۔

ندا الحسن کے بقول ''داعش کے اس کے بارے میں اداروں کے پکے ثبوت موجود ہیں کیونکہ داعش اسے اکھاڑنے والی تھی۔

عالمی ورثے کے تحفظ کے لیے سرگرم یونیسکو کے حکام نے بھی موصل میں آثار کے مٹائے جانے اور غائب کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔