.

غرب اردن:اسرائیلی فوج کی فائرنگ،4 فلسطینی شہید

فلسطینیوں کے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دریائے اردن کے مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور قصبوں میں ہزاروں فلسطینیوں نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کے خلاف اور اپنے مظلوم بھائیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے مظاہرے کیے ہیں۔صہیونی فوج نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر گولی چلا دی ہے جس کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

فلسطین کے طبی ذرائع کے مطابق غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل کے نزدیک واقع گاؤں بیت عمر میں فلسطینیوں نے جمعہ کو غزہ میں اسرائیلی جنگی مظالم کا شکار اپنے بھائیوں کے حق میں مظاہرہ کیا۔اسرائیلی فوجیوں نے انھیں منتشر کرنے کے لیے گولی چلا دی جس کے نتیجے میں ہاشم ابو مریح نامی ایک فلسطینی شہید ہوگیا۔

غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں تشدد کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے جہاں یہودی آبادکاروں نے فلسطینی مظاہرین پر گولی چلائی ہے جس سے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان خالدہ عودہ شہید ہوگیا۔اسرائیلی آرمی کے ریڈیو کا کہنا ہے کہ اس نوجوان پر ایک یہودی آبادکار عورت نے فائرنگ کی تھی۔

اس واقعہ کے فوراً بعد اسرائیلی فوجی وہاں آگئے۔ان کی فلسطینی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔انھوں نے بھی فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کی ہے اور انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں۔فائرنگ سے ایک بائیس سالہ نوجوان طیب عودہ شہید اور تین فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔

ادھر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی جمعہ کو مسلسل اٹھارھویں روز فلسطینیوں کے خلاف جارحیت جاری ہے اور اس کے حملوں میں پچاس سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔لڑائی میں ایک اسرائیلی فوجی مارا گیا ہے۔

غزہ ی میں جمعہ کو علی الصباح ایک حملے میں مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد کے سرکردہ رہ نما صلاح ابوحسنین اپنے دو بیٹوں سمیت شہید ہوگئے ہیں۔اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں اور زمینی گولہ باری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد آٹھ سو سے متجاوز ہوچکی ہے اور پانچ ہزار کے لگ بھگ زخمی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے فوجی کی شناخت یائر اشکنازی کے نام سے کی ہے۔8 جولائی کے بعد فلسطینی مجاہدین کے ساتھ جھڑپوں میں تینتیس اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور دو عام یہودی مارے گئے ہیں۔