اسرائیل پرجنگی جرائم کا مقدمہ، فلسطینی صدر پر دباؤ

محمود عباس حماس سمیت تمام فلسطینی دھڑوں کی حمایت کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلسطینی صدر محمود عباس اسرائیل کے خلاف غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم پر مقدمہ چلانے کے لیے حماس سمیت تمام فلسطینی دھڑوں کی جانب سے تحریری حمایت کے خواہاں ہیں۔

محمود عباس ماضی میں اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں جنگی جرائم کا مقدمہ چلانے میں تامل کا شکار رہے ہیں کیونکہ انھیں یہ خدشہ لاحق رہا ہے کہ ان کے اسرائیل کے ساتھ کشیدہ تعلقات مکمل طور پر معاندانہ ہوسکتے ہیں اور وہ امریکا کے مدمقابل بھی آ سکتے ہیں۔

لیکن اب غزہ کی پٹی میں گذشتہ چوبیس روز کے دوران اسرائیلی جارحیت میں چودہ سو فلسطینیوں کی شہادت کے بعد ان پر فلسطینی دھڑوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت( آئی سی سی) میں مقدمہ چلانے کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔

اسرائیلی عہدے داروں کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اپنے دفاع میں حماس کے راکٹ چھوڑنے کی جگہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔وہ الٹا حماس پر یہ الزام عاید کررہے ہیں کہ اس کے جنگجو غزہ کے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں حالانکہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں بلاتمیز بچوں ،خواتین اور ضعیف العمر افراد کو نشانہ بنا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے عہدے دار صہیونی ریاست کے خوف میں ایسے مبتلا ہیں کہ وہ اس کی ننگی جارحیت اور فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کو دو برابر پلڑوں میں شمار کررہے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ توازن قائم کرنے کے لیے حماس پر بھی جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر نیوی پلے نے جمعرات کو ایک بیان میں حماس پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ گنجان آباد علاقوں سے راکٹ فائر کرکے اور انھیں اسکولوں اور اسپتالوں میں ذخیرہ کرکے جنگی جرائم کی مرتکب ہورہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں شہری علاقوں ،اسکولوں ،اسپتالوں ،مکانوں اور اقوام متحدہ کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔انھوں نے جنیوا میں ایک نیوزکانفرنس کے دوران کہا کہ ''بظاہر ان حملوں میں سے کوئی بھی میرے نزدیک اتفاقی نہیں ہے۔اسرائیل نے جان بوجھ کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا نہیں کیا ہے''۔

انھوں نے اسرائیلی فوج کے غزہ کے پاور پلانٹ ، نکاسیِ آب کے نظام اور پانی کے کنوؤں پر حملوں پر بھی کڑی تنقید کی ہے۔اسرائیلی فوج نے 2009ء میں بھی غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ جنگ کے دوران پاور پلانٹ اور فراہمی و نکاسیِ آب کے نظام کو اسی طرح تباہ کردیا تھا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان یگال پالمر نے مس نیوی پلے کے اس بیان پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔دوسری جانب حماس کا موقف ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کے طور پر یہ راکٹ فائر کررہی ہے۔

اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں اضافے کے بعد اب غرب اردن سے تعلق رکھنے والے سیاسی دھڑے صدر محمود عباس پر یہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ صہیونی ریاست کے خلاف عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کریں۔

فلسطین کی قانون ساز اسمبلی کے ایک آزاد رکن مصطفیٰ برغوثی کا کہنا ہے کہ ''ہم اس معاملے میں ایک طویل عرصے سے فلسطینی صدر پر دباؤ ڈال رہے ہیں''۔انھوں نے بتایا کہ گذشتہ منگل کو سیاسی لیڈروں کا اجلاس ہوا تھا اور محمود عباس نے شرکاء سے کہا کہ آئی سی سی سے رجوع کرنے کے لیے ایک اعلامیے پر دستخط کردیں۔اس وقت اجلاس کے تمام شرکاء نے اس پر دستخط کردیے تھے اور اب عدالت سے رجوع کرنے کا حتمی فیصلہ خود صدر محمود عباس ہی کریں گے۔

تاہم انھوں نے اجلاس کے شرکاء سے یہ کہا تھا کہ وہ حماس اور اسلامی جہاد کی جانب سے تحریری رضامندی کے بغیر آگے نہیں بڑھیں گے کیونکہ انھیں بھی ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے مقدمے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

فلسطینی صدر کی فتح تحریک نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ ''وہ وسیع تر اتفاق رائے کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ حماس کو بھی آئی سی سی میں ممکنہ مضمرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔اس لیے تمام دھڑوں سے مشاورت کے بعد روم معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے''۔واضح رہے کہ اسی معاہدے کے تحت آئی سی سی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں