اسرائيل اور حماس تين روزہ فائر بندی پر متفق
اطلاق مقامی وقت صبح آٹھ بجے سے ہو گا
اسرائيل اور حماس نے 72گھنٹوں کے ليے فائر بندی پر اتفاق کر لیا ہے جبکہ اسی دوران فلسطينی و اسرائيلی مذاکرات کار اس مسلح تنازع کے دير پا حل کے ليے مصری دارالحکومت قاہرہ ميں ملاقات کريں گے۔
امريکی وزير خارجہ جان کيری اور اقوام متحدہ کے سيکرٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے جمعرات اور جمعہ کی درميانی شب جاری کردہ ايک مشترکہ بيان کے مطابق اسرائيل اور حماس انسانی بنيادوں پر تين دنوں کے ليے فائر بندی پر متفق ہو گئے ہيں۔ اس عارضی جنگ بندی کی مدت غزہ پٹی کے مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے جبکہ گرینچ کے عالمی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے سے شروع ہو رہی ہے۔
اسرائيل کے وزير اعظم بنجمن نيتن ياہو کے دفتر کے ايک اہلکار کے مطابق اسرائيل نے جنگ بندی کے حوالے سے امريکا اور اقوام متحدہ کی پيشکش کو قبول کر ليا ہے۔
ادھر حماس کے ايک ترجمان کے بقول تمام فلسطينی دھڑے عارضی جنگ بندی کا احترام کريں گے۔ بان کی مون اور جان کيری نے اپنے بيان ميں مزيد کہا کہ عارضی جنگ بندی کی مدت کے دوران اسرائيلی افواج اپنی جگہ نہيں چھوڑيں گی۔
درايں اثناء بيان ميں يہ بھی بتايا گيا ہے کہ اسرائيلی اور فلسطينی وفود دير پا جنگ بندی کے قيام کے ليے مذاکرات کی غرض سے مصری دارالحکومت قاہرہ کا رخ کريں گے۔ فلسطينی اہلکاروں کے بقول ان کے وفد ميں حماس کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کی حمايت يافتہ الفتح، جہاد اسلامی اور ديگر کئی چھوٹے دھڑے شامل ہوں گے۔
امريکی محکمہ خارجہ کے ايک سينئر اہلکار کے مطابق قاہرہ ميں مذاکرات جمعہ يکم اگست کی دو پہر تک ہی شروع ہو سکتے ہيں۔ اس اہلکار نے مزيد بتايا کہ اسرائيلی اور امريکی نمائندے حماس کے نمائندوں کے مدمقابل نہيں بيٹھيں گے۔ يہ امر اہم ہے کہ امريکا، اسرائيل اور يورپی يونين حماس کو دہشت گرد گروہ قرار ديتے ہيں۔
دوسری جانب جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جمعرات اور جمعے کی درميانی شب تک لڑائی جاری تھی۔ حماس کی طرف سے کہا گيا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اسرائيل کی جانب راکٹ داغے، جن کے نتيجے ميں تل ابيب ميں سائرن کی آوازيں گونجتی رہيں۔ اسی دوران غزہ پٹی سے بھی مزيد اسرائيلی شيلنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہيں۔
اسرائيل نے غزہ ميں اپنی کارروائی کا آغاز آٹھ جولائی کو کيا تھا۔ اس مسلح تنازعے کے نتيجے ميں قريب تين ہفتوں ميں اب تک 1,450 فلسطينی شہید اور سات ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہيں، جن ميں بھاری اکثريت شہريوں کی ہے۔ اس دوران اسرائيل کے بھی چھپن فوجی اور تين شہری ہلاک جبکہ چار سو فوجی زخمی ہو چکے ہيں۔
-
اسرائیل غزہ میں ہٹلری فاشزم پرعمل پیرا ہے:ایردوآن
صہیونی ریاست ہٹلر کی روح کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہی ہے
بين الاقوامى -
اسرائیل پرجنگی جرائم کا مقدمہ، فلسطینی صدر پر دباؤ
محمود عباس حماس سمیت تمام فلسطینی دھڑوں کی حمایت کے خواہاں
مشرق وسطی -
اسرائیل نواز ریلی کے موقع پر پیرس میں بلوا پولیس تعنیات
فرانس کے دارلحکومت پیرس میں جمعرات کے روز اسرائیل کی حمایت میں نکالی جانے والی ...
بين الاقوامى -
اقوام متحدہ کے ترجمان غزہ میں اموات پر رو پڑے
اونروا کے اسکول پر اسرائیلی گولہ باری پر جذبات قابو میں نہ رکھ سکے
ایڈیٹر کی پسند -
اسرائیل میں 16 ہزار ریزرو فوجیوں کو تیار رہنے کا حکم
اسرائیل نے غزہ کی جنگ میں جھونکنے کے لیے اپنی ریزرو فوج کے سولہ ہزار مزید اہلکار ...
مشرق وسطی -
حماس نے لبنانی تنظیم حزب اللہ سے مدد مانگ لی
اسرائیل کے خلاف مل کر لڑ سکتے ہیں: موسی مرزوق
مشرق وسطی