"فلسطین۔اسرائیل جنگ بندی بات چیت دوبارہ شروع کریں"

عالمی فوجداری عدالت کی رکنیت کے لیے مہم جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر کے محکمہ خارجہ نے غزہ کی پٹی میں قتل عام روکنے کے لیے فلسطینی قیادت اور اسرائیل سے جنگ بندی کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز قاہرہ میں وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں فریقین پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے پر حملے روکتے ہوئے جنگ بندی کے لیے ڈیڈ لاک کا شکار بات چیت دوبارہ شروع کریں۔ مصر اس سلسلے میں دونوں فریقوں سے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

اُدھر فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد قاہرہ کی نگرانی میں اسرائیل سے بالواسطہ بات چیت شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے مصری ہم منصب فیلڈ مارشل ریٹائرڈ عبدالفتاٌح السیسی سے ملاقات کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ انہوں نے صدر السیسی سے غزہ کی پٹی میں جاری بحران کے جلد خاتمے پر اتفاق کیا ہے۔

صدر محمود عباس کہہ رہے تھے کہ وہ جلد ہی فلسطینیوں اور اسرائیلی حکومت سے اپیل کریں گے کہ وہ غزہ کی پٹی میں طویل المیعاد جنگ بندی کے لیے بات چیت کا دوبارہ آغاز کریں۔ مصری حکومت کی جانب سے بھی فریقین کو واپس قاہرہ آنے اور جنگ بندی مذاکرات کا از سر نو آغاز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ میں بھی اس مطالبے کی حمایت کرتا ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں فلسطینی صدر نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطین میں قومی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد ہم نے تمام فلسطینی گروپوں سے کہا ہے کہ وہ عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کے لیے آپس میں اتفاق رائے پیدا کریں۔

دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام فلسطینی جماعتوں کے اتفاق رائے سے تیار کی جانے والی اس دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں جس میں فلسطین کو عالمی عدالت انصاف کی رکنیت دلوانے کی سفارش کی گئی ہے۔

فلسطین کے ایک سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس تمام جماعتوں سے ایک یادداشت پر دستخط اس لیے کرا رہے ہیں تاکہ عالمی فوج داری عدالت سے رجوع کے فیصلے کی ذمہ داری تنہا ان پر نہ ڈالی جا سکے اور وہ عالمی برادری کو یہ باور کرا سکیں کہ "آئی سی سی" سے رجوع میں پوری فلسطینی قیادت ایک صفحے پر ہے۔

درایں اثناء غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں ایک خاتون سمیت مزید تین فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ غزہ وزارت صحت کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے وسطی غزہ میں متعدد مکانات پر بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں کم سے کم پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وسطی غزہ میں اسرائیلی فوج نے ابو دحروج نامی شہری کے مکان پر دو میزائل داغے جس کے نتیجے میں متعدد افراد مارے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے سے غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں اب تک 2100 فلسطینی شہید اور 11000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں