.

امریکا: ایران کو ہمارا نہیں، ایرانیوں کا تعاون ہمیں حاصل ہے

امریکا نے عراق میں داعش کے خلاف اپنی پوزیشن واضح کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی دفتر خارجہ نے اس امر سے انکار کیا ہے کہ امریکا عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں ایران کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ تاہم دفتر خارجہ نے اس امر سے انکار نہیں کیا ہے کہ ا مریکا ایرانیوں کی معاونت لے رہا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ نے یہ بات اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد واضح کی ہے جو ایران رہبر آیت اللہ خامنہ ای کے حوالے سے تھی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا۔ رہبر نے ایرانی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو حکم دیا ہے کہ داعش کے خلاف امریکا سے تعاون کریں۔

ایران سے یہ رپورٹ ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی تھی۔ امریکا نے بھی جمعہ کے روز دس رکنی بین الاقاوامی اتحاد کی تشکیل دی تھی تاکہ عراقی حکومت کی مدد کی جا سکے ۔ تاہم اس نئے دس رکنی گروپ نے عراق کی سرزمین پر فوجی اتارنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اس کے برعکس ایرانی فوجی عراق کی سرزمین پر پچھلے کئی ماہ سے موجود ہیں اور عراق میں شیعہ کمیونٹی اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے سرگرم ہیں۔

ان ابتدائی نوعیت کی رپورٹس کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی رہبر کا ہر لفظ ملک کی فوج اور حکومت کی خارجہ امور سے متعلق پالیسی میں حتمی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے عراق کے سنی انتہا پسندوں کے خلاف اس مرحلے پر امریکا کے ساتھ تعاون کے حق میں رائے دے دی ہے۔

اس حوالے سے جمعرات کے روز ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اپنے دوسرے فوجیوں کے ساتھ مل کر جشن مناتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ویڈیو آمرلی کا محاصرہ ختم کرنے کی خوشی مناتے ہوئے بنائی گئی تھی۔

واضح رہے آمرلی کا قصبہ بغداد سے ایک سو ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر شمال میں شیعہ اکثریت کا ایک قصبہ ہے۔ اس کا داعش نے کچھ عرصے سے محاصرہ کر رکھا تھا۔