داعش نے زیرحراست 35 انسانی حقوق کارکن، صحافی قتل کر دیے

تمام مقتولین اجتماعی قبر میں دفن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

دہشت گرد تنظیم دولت اسلامی عراق و شام" داعش" کی جانب سے روز مرہ کی بنیاد پر عام شہریوں کے وحشیانہ طریقے سے قتل عام کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق داعشی جنگجوؤں نے شام میں گرفتار کیے گئے 35 انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔ مارے گئے تمام افراد پچھلے کئی ماہ سے داعش کی جیلوں میں بند تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الرقہ شہر میں انسانی حقوق کے مندوبین کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجووں نے 35 انسانی حقوق کے رضاکاروں اور صحافیوں کو 18 ستمبر کو گولیاں مار کر قتل کیا اور پھر انہیں ایک اجتماعی قبرمیں دفن کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر داعش کے ہاتھوں قتل ہونے والے صحافی اور سماجی کارکن احمد الاصمعی کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ الاصمعی ان 35 کارکنوں میں شامل تھا جنہیں داعش نے دوران حراست قتل کیا ہے۔ الرقہ سے تعلق رکھنے والے الاصمعی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں جب یہ اطلاع ملی کہ ان کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے تو انہیں نے داعش سے رابطہ کر کے اس کی میت کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبے پر داعش کی جانب سے کہا گیا کہ اس کی میت نہیں مل سکتی کیونکہ اسے قتل کے بعد ایک اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا ہے۔

شامی انقلابیوں کی نمائند" سراج پریس" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الرقہ میں داعشی دہشت گردوں کے ہاتھوں 35 انسانی حقوق کارکنوں اور صحافیوں کے قتل کی خبر مصدقہ ہے تاہم ان کی اجتماعی قبر کے بارے میں متضاد آرا سامنے آئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں