انسانی تجارت "داعش" کا مؤثر ذریعہ آمدن
بچوں، خواتین کی سرعام خرید و فروخت جاری
شام اور عراق میں نہایت تیزی کے ساتھ فتوحات کے جھنڈے گاڑنے اور کشتوں کے پشتے لگانے میں شہرت پانے والی تنظیم دولت اسلامی عراق وشام "داعش" کے ذرائع آمدن کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں تاہم ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی تجارت بالخصوص بچوں اور خواتین کی سر عام خرید و فروخت تنظیم کی آمدن کا سب سے اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ داعشی جنگجو اپنے زیر اثر شام اور عراق کے شہروں سے بچوں اور خواتین کو پکڑتے اور لونڈیاں اور غلام بنا کرانہیں اس مکروہ دہندے میں ملوث گروہوں کے ہاتھ منہ مانگے داموں پر فروخت کرتے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ستمبر میں داعشی جنگجوؤں نے شمالی عراق کے سرحدی قصبے سنجار پرقبضہ کرکے وہاں پر موجود یزیدی قبیلے اور مسیحی برادری کی سیکڑوں خواتین اور بچوں کو یرغمال بنالیا تھا۔
امریکی اخبار "ٹائمز" کے مطابق ابھی تک یرغمال بنائی گئی خواتین کو رہا نہیں کیا گیا بلکہ انہیں بازاروں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش نےعراق کے موصل شہر کو مقدس مقام کا درجہ دے رکھا ہے جہاں زیرحراست خواتین اور بچوں کی نیلامی کی جاتی ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ داعشی عناصر کے چنگل میں پھنسی عورتوں اور بچوں کی سرے عام فروخت صرف موصل میں نہیں ہو رہی ہے بلکہ شام کے الرقہ شہر میں بھی یہ دھندہ اپنے عروج پر ہے۔ ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ داعشی جنگجو یرغمالی خواتین کی قیمتیں ان کی عمر اور شکل و صورت کے اعتبار سے مختلف مقرر کرتے ہیں لیکن بچوں کی قیمت میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ عموما کسی ماں کے لخت جگر کو 10 ڈالر کی حقیر رقم کے عوض کسی بھی گاہک کےہاتھ بیچ دیا جاتا ہے۔ اسلامی شریعت کی پیروی کی دعویدار تنظیم کی جانب سے انسانی تجارت کا انتہائی شرمناک دھندہ غیراسلامی ہی نہیں بلکہ غیرانسانی بھی ہے۔
داعشی عناصر جہاں اپنے زیرقبضہ علاقوں کی لڑکیوں اور بچوں کو پکڑ کربھیڑ بکریوں کی طرح فروخت کرتے ہیں وہیں دنیا بھر سے نوجوانوں اور عورتوں کو اس تنظیم میں شامل ہونے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ بیرون ملک سے داعش کی صفوں میں شامل ہونے والے عناصر کو بھی یرغمال بنائی گئی خواتین اور بچے فروخت کیے جاتے ہیں۔ اس طرح داعش کو دہشت گردی پھیلانے کے لیے اچھا خاصا معاوضہ بھی مل رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگست کے آخر میں داعش نے جن خواتین کو یرغمال بنایا تھا۔ ان سے رابطے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے عالمی ادارے کے محققین کو بتایا کہ داعشی جنگجو انہیں جنسی درندگی اور ہوسناکی کا بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تین اگست کو داعش کے مسلح عناصر نے شمال مغربی عراق سے یزیدی قبیلے کی 500 خواتین کو یرغمال بنایا۔ اس کے دو روز بعد 150 عیسائی عورتیں بھی پکڑ کرغائب کی گئیں۔ عالمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں پھیلے عسکریت پسند گروپوں میں "داعش" مالی اعتبار سے نہایت مضبوط تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ داعش کے جنگجو نہ صرف انسانی تجارت کا مکروہ دہندہ کرتے ہیں بلکہ انہوں نے عراق اور شام میں بنکوں اور بازاروں کی لوٹ مار کے علاوہ تیل کی فروخت سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
-
داعش نے شام میں یرغمال برطانوی شہری قتل کر دیا
ڈیوڈ کیمرون، اوباما کا انتقام لینے کا اعلان
مشرق وسطی -
ہالینڈ اور کینیڈا کی داعش مخاالف کارروائیوں پر آمادگی
ہالینڈ سے دوستی پر فخر ہے، امریکا کی طرف سے خیر مقدم
مشرق وسطی -
شام پر حملے میں تاخیر،لیون پینیٹا کی صدر اوباما پرتنقید
امریکا کے سابق وزیردفاع لیون پینیٹا نے شام میں فوجی کارروائی میں تاخیر اور پس وپیش ...
ایڈیٹر کی پسند