.

کرد جنگجو خاتون کا داعش پر خودکش بم حملہ

کوبانی کے باہر حملے میں داعش کی متعدد ہلاکتیں:شامی آبزرویٹری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرحدی شہر عین العرب (کوبانی) کے نواح میں ایک کرد خاتون جنگجو نے خود کو دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں کے درمیان دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اس عورت نے اتوار کو شہر کے مشرق میں داعش کی ایک پوزیشن پر بم حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ان کی درست تعداد کی تصدیق نہیں ہوئی۔کسی کرد جنگجو خاتون کا داعش پر یہ پہلا خودکش بم حملہ ہے۔

کوبانی کے نواح میں کرد جنگجوؤں اور داعش کے درمیان گذشتہ چند روز سے شدید لڑائی ہورہی ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیارے کوبانی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں تباہ کن فضائی حملے کررہے ہیں لیکن وہ داعش کی پیش قدمی کو روکنے میں ناکام رہے ہیں اور وہ اب کوبانی کی دہلیز پر ہیں۔وہ جنوب اور جنوب مشرق کی سمت سے شہر کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے16 ستمبر کو کوبانی کی جانب چڑھائی کا آغاز کیا تھا۔گذشتہ دوہفتوں میں انھوں نے اس شہر کے قرب وجوار میں واقع سڑسٹھ دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔یہ شام میں کرد آبادی پر مشتمل تیسرا بڑا شہر ہے۔اگر اس پر داعش کا قبضہ ہوجاتا ہے تو پھر ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شام کے تمام علاقے پر ان کا کنٹرول قائم ہوجائے گا۔

ترکی سرحد کے نزدیک واقع اس علاقے میں لڑائی کے نتیجے میں کم سے کم ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد اپنا گھربار چھوڑ کر ترکی کی جانب چلے گئے ہیں۔ان شامی کردوں نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو داعش کی پیش قدمی روکنے میں ناکامی پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ دنیا کچھ کرنے کے بجائے داعش کے ہاتھوں کردوں کے قتل عام کا تماشا دیکھ رہی ہے۔