سلامتی کونسل اسرائیلی انخلاء کی قرارداد پر رائے شماری کرائے: ''فلسطین ''
قرارداد میں اکتوبر 2016 تک مقبوضہ فلسطینی علاقے چھوڑنے کا مطالبہ
اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر نے مطالبہ کیا ہے کہ رواں سال کے خاتمے سے پہلے سلامتی کونسل اپنے ووٹ کے ذریعے اسرائیل کو اس امر کا پابند بنائے کہ تمام فلسطینی مقبوضہ علاقوں سے نومبر 2016 تک اپنی فوج نکال لے۔
فلسطینی سفیر ریاض منصور نے مزید کہا ''اس بارے میں پیش کردہ قرارداد اگر ناکام ہوئی تو فلسطینی اپنے سامنے موجود دیگر آپشنز کو بروئے کار لائیں گے۔ ''
تاہم خدشہ ہے کہ اس قرار داد کے حوالے سے اسرائیل کا اہم ترین اتحادی امریکا اور بعض دیگر اہم ملک اسرائیل کے حق میں ووٹ استعمال کریں گے۔
فلسطینی سفیر نے تین روز قبل بتایا تھا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے سات ارکان کا ووٹ اس قرارداد کے حق میں پکا کر لیا ہے۔''قرارداد کی منظوری کے لیے نو ووٹوں کی ضرورت ہے۔
مبصرین کا اس قرارداد کے بارے میں کہنا ہے کہ اس فلسطین کی طرف سے سامنے آنا فلسطینیوں کی مسلسل محرومیوں اور اسرائیلی میں مانیوں کا فطری ردعمل ہے۔ کیونکہ اسرائیل ہی نہیں اس کے عالمی اتحادی فلسطین کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف جائز بات سامنے آنے پر بھی ساتھ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ جیسا کہ سویڈن کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کے اعلان پر بڑی طاقتوں اور اسرائیل کا رویہ ظاہر ہوا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سامنتھا پاور سے جب اس ماہ کے شروع میں فلسطین کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ '' مسئلے کا حل صرف امن مذاکرات سے ممکن ہے۔ ''
اقوام متحدہ میں اسرائیل ران پروسار نے اس قرارداد کے پہلی مرتبہ سامنے آنے پر کہا تھا'' یہ قرار داد ایک طرح سے یکطرفہ اقدام ہے، جو امن مذاکرات کو پیچھے چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔'' تاہم فلسطینی سفیر نے کہا فلسطینی اس قرار داد پر ووٹنگ کرانے کو ضروری سمجھتے ہیں۔
واضح رہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اکتوبر 2012 میں مغربی کنارے ، مشرقی یروشلم اور غزہ پر مشتمل فلسطینی ریاست کے حق کو تسلیم کیا تھا ۔ لہذا فلسطین کو اقوام متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے کا بھی حق تسلیم کیا گیا۔
فلسطینی سفیر نے کہا '' ہم قانونی اور زمینی اعتبار سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک ریاست ہیں، اس لیے مزید عالمی معاہدوں کا حصہ بننا، عالمی اداروں کی رکنیت حاصل کرنا ہمارا حق ہے۔