مصر: خاتون سیاسی رہنما کے بیرون ملک جانے پر پابندی

زیر حراست رکھنے کے بعد رہائی، مرسی کے 15000 حامی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصری حکام نے 2011 کی تحریک مزاحمت میں سرگرم رہنے والی خاتون کارکن عاصمہ محفوظ کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا ہے۔ نام ای سی ایل میں شامل کر دیا گیا۔

ان پر مصری حکام نے بیرون ملک جانے پر پابندی ایسے وقت میں لگائی ہے جب وہ ہانگ کانگ کے لیے روانہ ہونے کے لیے قاہرہ ائیر پورٹ پر پہنچی تھیں۔

عاصمہ محفوظ نوجوانوں کی ایک معروف رہنما ہیں۔ انہوں نے مصر کے مطلق العنان حکمران حسنی مبارک کے خلاف تحریک میں پرجوش انداز میں حصہ لیا تھا۔

انہیں قاہرہ ائیر پورٹ پہنچنے پر انہیں امیگریشن حکام نے سفر پر روانہ ہونے سے روک دیا۔ امیگریشن حکام نے یہ اقدام مصر کے پراسیکیوٹر جنرل کی درخواست پر کیا ہے۔ امیگریشن حکام نے عاصمہ محفوظ بتایا ''آپ کا نام حکومت نے ای سی ایل میں شامل کر رکھا ہے، آپ باہر نہیں جا سکتیں۔''

اس موقع پر انہیں کچھ دیر کے لیے حراست میں بھی رکھا گیا۔ تاہم بعد ازاں انہیں اپنی بہن اور بہنوئی کے ساتھ گھر واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔

واضح رہے مصر کے پہلے باضابطہ منتخب صدر محمد مرسی کی جولائی 2013 میں فوجی سربراہ کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے حکومت نے اختلاف رکھنے والے سیاسی کارکنوں کے خلاف مسلسل کریک ڈاون کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔

اس وجہ سے معزول صدر مرسی کے لگ بھگ 15000 حامی جیلوں میں بند ہیں۔ جبکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق مرسی کے 1400 حامی ہلاک بھی کیے جا چکے ہیں۔

حکومت نے متعدد ایسے سیاسی کارکنوں کو بھی حراست میں لے رکھا ہے جو اخوان المسلمون اور مرسی کے بر عکس سیکولر خیالات رکھتے ہیں لیکن بنیادی حقوق کے حامی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں