یہود کو الاقصیٰ میں عبادت کی اجازت نہیں دی جائے گی:اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل نے اردن کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کا یہود کو مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں عبادت کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے ایک ذریعے نے کہا ہے کہ ''حکومت کا ٹیمپل ماؤنٹ کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے''۔واضح رہے کہ یہودی مسجد الاقصیٰ کے لیے ٹیمپل ماؤنٹ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔

اردن مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کی دیکھ بھال کا ذمے دار ہے اور وہ مسجد الاقصیٰ میں کوئی خلاف ورزی ہونے کی صورت میں اسرائیل سے شکایت کرتا ہے۔انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے حالیہ دنوں میں مسجد الاقصیٰ میں داخلے کی متعدد مرتبہ کوششیں کی گئی ہیں اور ان کی مزاحمت کرنے والے فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔

اسرائیلی روزنامے ہارٹز نے اپنی بدھ کی اشاعت میں لکھا ہے کہ اردن نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کے ایک انتہا پسند رکن پارلیمان کی جانب سے پیش کیے گئے ایک بل کے بارے میں وضاحت طلب کی تھی۔اس بل میں مسجد الاقصیٰ کی حیثیت کو تبدیل کرنے اور وہاں یہود کو عبادت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس مجوزہ بل کے بارے میں فلسطینیوں کی جانب سے لکھے گئے مضامین میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس کو بہت جلد اسرائیلی پارلیمان میں رائے شماری کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے۔

اردن کے ایک عہدے دار نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اخبار کی رپورٹ میں کوئی نئی چیز نہیں ہے۔عمان نے اس معاملے کی وضاحت کے لیے کئی ہفتے قبل درخواست کی تھی اور نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے اسے یہ مطلع کیا گیا ہے کہ اسرائیل مسجد الاقصیٰ کی جوں کی توں حیثیت میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

مجوزہ بل میں دراصل یہودیوں کو مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں عبادت کی اجازت دینے کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس میں کہا گیا ہے کہ غیرمسلموں کو وہاں موجود رہنے کے لیے مزید وقت دیا جائے تاکہ وہاں تمام مذاہب کے پیروکاروں کو نقل وحرکت کی آزادی مل سکے۔اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی اشتعال انگیز اقدام کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ غیر مسلموں کے صرف اجازت ناموں کے ذریعے ہی الاقصیٰ کمپلیکس میں داخل ہونے کی اجازت ہے لیکن یہودیوں کو مسجد کے اندر داخل ہونے اور اس میں عبادت کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے گڑبڑ کا اندیشہ رہتا ہے۔اس کے بجائے وہ مسجد الاقصیٰ کی دیوارغربی کے نیچے عبادت کرتے ہیں۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہودیوں کی جانب سے مسجد الاقصیٰ میں بار بار مداخلت کی کوشش سے اس کا تقدس مجروح ہوتا ہے اور وہ اس کی ہیئت کو تبدیل کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔وہ جب ان انتہا پسند یہودیوں کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو پولیس تشدد کے خاتمے اور امن وامان برقرار رکھنے کے نام پر ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size