اسرائیل کا مقبوضہ بیت المقدس میں القاعدہ کا سیل توڑنے کا دعویٰ
گرفتارافراد تل ابیب میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے
اسرائیلی سکیورٹی سروسز نے مقبوضہ بیت المقدس میں القاعدہ سے وابستہ مبینہ جنگجوؤں کے ایک سیل کو توڑنےکی اطلاع دی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ تل ابیب میں امریکی سفارت خانے پر بم حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ''شبک (صہیونی ریاست کی داخلی سکیورٹی سروسز شین بیت) نے مشرقی یروشیلم (القدس) سے القاعدہ کے ایک ٹیررسیل کو گرفتار کر لیا ہے''۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس گروپ کے لیڈر کا تعلق مشرقی القدس اور باقی افراد کا تعلق مغربی کنارے کے شہر نابلس سے ہے۔وائی نیٹ نیوز ڈاٹ کام کا کہنا ہے کہ''گرفتار افراد مقبوضہ بیت المقدس میں بنیانئی حوما عمارت اور تل ابیب میں امریکی سفارت خانے کو حملوں میں نشانہ بنانا چاہتے تھے''۔
اس نے شین بیت کے ایک اعلیٰ عہدے دار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ''یہ ایک سنجیدہ تنظیم تھی مگراس کے ابتدائی مرحلے ہی میں پر کاٹ دیے گئے ہیں''۔اسرائیلی حکام اور میڈیا اداروں کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں کیونکہ وہ بالعموم فلسطینی مزاحمت کاروں کو بھی دہشت گرد کے طور پر پیش کرتے ہیں اور ان کے بارے میں مبالغہ آمیز دعوے کرتے رہتے ہیں۔
-
نیتن یاھو کی راکٹ حملوں پر حماس کو سنگین نتائج کی دھمکی
غزہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
مشرق وسطی -
بہت سی عرب ریاستیں اسرائیل کو دوست سمجھتی ہیں:نیتن یاہو کا دعویٰ
عرب ممالک کو بھی ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش لاحق ہے
مشرق وسطی -
یورپی ممالک کے سفیروں کو اسرائیل نے طلب کر لیا
یہودی بستیوں کے خلاف موقف قابل قبول نہیں: اسرائیلی دفتر خارجہ
مشرق وسطی -
لبنانی القاعدہ کی ایران ،حزب اللہ اور اسرائیل پر حملوں کی دھمکی
ایران پر لبنان کے ریاستی اداروں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کا الزام
بين الاقوامى -
اسرائیل یہودی آبادکاروں کے لیے 1800 نئے مکانات تعمیر کرے گا
مقبوضہ القدس میں 1076 اور غرب اردن میں 801 نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان
مشرق وسطی