.

جیش الحُر کے 1300 جنگجو کوبانی جائیں گے

داعش کے مقابلے میں کردوں کی کمک اور حمایت میں مسلسل اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے تیرہ سو جنگجو شام کے سرحدی شہر کوبانی میں بھیجے جارہے ہیں اور وہ شہر کا دفاع کرنے والے کرد جنگجوؤں کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف جنگ میں حصہ لیں گے۔

ترک صدر نے جمعہ کو ایسٹونیا کے دارالحکومت ٹالین میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''شامی کردوں نے جیش الحُر سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار تین سو جنگجوؤں کو قبول کر لیا ہے اور اب ان کی وہاں منتقلی کے لیے روٹ کے تعیّن کی غرض سے بات چیت کی جا رہی ہے''۔

قبل ازیں جیش الحر نے جمعرات کو کردوں کی حمایت میں اپنے جنگجو بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔کرد جنگجو گذشتہ ایک ماہ سے کوبانی (عین العرب) میں داعش کا مقابلہ کررہے ہیں اور انھیں امریکا کی قیادت میں اتحادیوں کے جنگی طیاروں کی فضائی مدد بھی حاصل ہے لیکن وہ ابھی تک داعش کو شکست دینے یا انھیں پسپا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

کوبانی میں اس وقت قریباً دو ہزار کرد جنگجو داعش کے خلاف لڑرہے ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اتحادی جنگی طیاروں کی فضائی مدد کی بدولت ہی اپنے ٹھکانے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ترکی نے جمعرات کو عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان کی البیش المرکہ فورسز کے دو سو جنگجوؤں کو کوبانی میں جانے کی اجازت دی تھی جہاں وہ اپنے ہم نسل کردوں کے ساتھ مل کر شہر کا دفاع کریں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ترکی نے عراق اور شام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو اپنی سرحد سے گذر کر جنگ زدہ کوبانی میں جانے کی اجازت دی ہے۔ترک وزیراعظم احمد داؤداوغلو نے اسی ہفتے اپنے ملک سے تعلق رکھنے والے کردوں کو کوبانی میں جا کر لڑنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا اور یہ واضح کیا تھا کہ صرف شامی مہاجرین ہی وہاں جاسکتے ہیں۔

ترکی نے امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد کو عراق اور شام میں داعش پر حملوں کے لیے اپنی سرزمین اور ہوائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کردیا تھا اور کہا تھا وہ دونوں ممالک میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف کسی مسلح کارروائی میں حصہ نہیں لے گا بلکہ صرف انسانی امداد کی سرگرمیوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا۔