کشمیری مہاجرین کی اسمبلی نشستیں، معاملہ 'خطرے ناک'؟

نجم الحسن عارف
نجم الحسن عارف
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 14 منٹ

اگرچہ یہ مطالبہ بظاہر ایک غیر سیاسی تنظیم بلکہ گروہ نے اٹھایا ہے۔ لیکن اس کے سیاسی مضمرات قومی اور بین الاقوامی ہر دو سطحوں پر دور رس ہوں گے۔ اسی وجہ سے یہ مطالبہ کرنے والوں نے بھی اس کے لیے نوجوانوں کو لڑنے مرنے پر آمادہ کرنے کی تیاری کی ہے اور اس کی مخالفت کرنے والے بھی اس کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے آخری حد تک جانے کو تیار نظر آتے ہیں۔ ان سطور میں درمیانہ راستہ تجویز کیا گیا ہے، تاکہ جو لوگ بھی نیک نیتی سے اس بارے میں سوچتے ہیں انہیں ایک متبادل راستہ مل سکے اور خطرات کا مل جل کر سد باب کیا جا سکے۔


یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کی سیاست اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے چھانگا مانگا اور سندھ ہاؤس جیسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اس لیے کیونکر ممکن ہے کہ پاکستان میں موجود کشمیری مہاجرین کی نشستوں کا استعمال مفاد پرست اور موقع پرست عناصر سیاسی جوڑ توڑ، حکومت سازی اور سیاست بازی کے لیے نہیں کرتے ہوں گے۔ لیکن بات محض ان مہاجر نشستوں کے گدلے استعمال کی ہرگز نہیں ہے۔


آزاد کشمیر اسمبلی نے پچھلے پانچ برسوں میں جس طرح چار حکومتی قلابازیوں کا کھیل دکھایا ہے وہ مہاجر ارکان اسمبلی کے علاوہ باقی ارکان اسمبلی کی سیاسی ابن الوقتی اور ہوس زر اور ہوس اقتدار پر بھی دلیل ہے۔ یاد رہے سب پر بھاری آصف زرداری کی جماعت کی آزاد کشمیر میں بھی حکومت کا قائم ہونا اسی سیاسی جگاڑ کاری کی مثال ہے۔ اب گلگت بلتستان بھی انہی کی جماعت کے حوالے ہو رہا ہے۔ سندھ اور بلوچستان بھی انہی کے کنٹرول میں، یوں تمام حساس سرحدی حصے پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری کی سوچ کے سیاسی اینٹ گارے سے بنے نظر آتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ آصف علی زرداری نے سیاست کو ایک فن کا اور جمہوریت کو ایک انتقام کا قالب دے دیا ہے۔


سیاست بازی کے اس ماحول میں مہاجر نشستوں کے بارے میں یہ مطالبہ ہر عام شہری کو جائز اور معصومانہ لگنا فطری امر ہے۔ اگرچہ معاملہ اتنا سیدھا ہے نہ بے ضرر۔۔ سادہ لوح عوام کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ محروم طبقات کی طرح ہی سوچتے ہیں۔ اس لیے انہیں جب کوئی ہوشیار لیڈر اپنی چکنی چپڑی باتوں کے بہلاؤ پھسلاؤ میں لے آتا ہے تو یہ سادہ لوگ اپنے معصوم اور نوجوان بچے تک قربان کرنے کو بھی تیار ملتے ہیں۔ جبکہ ہوشیار لیڈر امن اور خوشحالی کے نام پر فساد پھیلانے اور کاروبار کی بندش تک کو آسانی سے عوام میں بیچ لیتا ہے۔ نئے دریافت شدہ مرض (مہاجر نشستیں) کی شروعات بھی ان مطالبات کو امرت دھارا بنا کر پیش کرنے سے ہوئی ہیں۔


ایکشن کمیٹی کی قیادت کا پس منظر تاجرانہ ہونے کا اسے خوب فائدہ ہے۔ اسی وجہ سے انہیں مارکیٹ میں آٹے دال کا ہر بھاؤ بھی معلوم تھا اور عوامی نفسیات کی بھی خوب خبر تھی۔ یوں ایکشن کمیٹی نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز آٹے کی 'سبسڈائزڈ' قیمت مقرر کرانے سے کیا اور مہنگی بجلی کو آزاد کشمیر کے لیے سستی ترین کرنے کا مطالبہ کیا۔


دوسری جانب بھی چونکہ سیاسی قیادتوں کو نوسر بازی کا کافی تجربہ تھا، اس لیے انہوں نے اس بلا سے نجات پانے کے لیے بعض دیگر مطالبات سمیت ان دو مطالبات کو زیادہ آسان جانا کہ انہیں اس طرح اپنا توتی بولنے کی بھی امید تھی۔ یوں بیس کلو گرام آٹے کی قیمت لگ بھگ تین ہزار روپے سے کم کر کے گیارہ بارہ سو روپے کر دی گئی اور بجلی کی تین روپے فی یونٹ کردی گئی۔ تاکہ حاتم طائی کی روح بھی ان حکمرانوں کی فراخ دلی پر رشک کرے اور ان کا بول بالا ہوتا رہے۔ قوم کے لیے کوئی طویل مدتی ویژن اور پالیسی نہ رکھنے والے حکمرانوں کے اس وطیرے سے ہم سب اچھی طرح آگاہ ہیں۔


سستی شہرت کے لیے یہ کپڑے تک بیچ دینے اور گھاس تک کھا کر گزارا کرنے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ لیکن اصل مسائل کو ان کی درست جگہ پر رکھتے ہوئے کوئی ترتیب اور ترجیح بنانا ان کی کبھی بھی ضرورت نہیں بنی۔ نتیجتا عوام اس روٹی کپڑے اور مکان کے لیے آج بھی مرے جا رہے ہیں جو 'ہائبرڈ جمہوریت' کے پہلے باقاعدہ بانی شہید قائد جمہوریت نے دہائیوں پہلے دینے کا اعلان کیا تھا۔ روٹی کپڑا اور مکان آج بھی عوام کے لیے ایک انتخابی نعرے سے بھی آگے ٹرک کی بتی کا روپ دھار چکا ہے۔


آزاد کشمیر میں بھی معاملہ در اصل یہیں سے خراب ہوا۔ بیکری کا کاروبار کرنے والے نئے عوامی لیڈر ٹائپ رہنماؤں نے آٹا اس قدر سستا دلوادیا اور بجلی اتنی سستی کرادی کہ غربت زدہ عوام ان کے گرویدہ ہو گئے۔ ان لیڈروں نے شکستہ اور کرپٹ انتظامی و سیاسی نظام کو اپنے تیشے کی زد پر لے لیا۔ یہ بھی عوام کو برا نہ لگا۔ لیکن بتدریج مہاجر کشمیریوں کی اسمبلی میں نشستوں کے خاتمے اور بالآخر ملکی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تناؤ پیدا کرنے کا ہدف واضح ہو گیا۔ یہ سب اس کے باوجود ہوا کہ آزاد کشمیر کے لیے سیکیورٹی اداروں کی حیثیت عام سرحدوں سے کہیں زیادہ اور غیر معمولی ہے۔


بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس مقصد کے لیے 9 جون کا اعلان 9 مئی کی یاد تازہ کرنے کے لیے چنا گیا تاکہ ثابت کیا جائے معاملہ زیادہ 'خطرے ناک' ہوگا۔ ایک رائے یہ ہے کہ چونکہ آزاد کشمیر میں انتخابات متوقع تھے اس لیے جلدی جلدی حالات کو خرابی کی طرف لے جانے کا اہتمام کیا گیا کہ الیکشن سبوتاژ ہوں اور آزاد کشمیر میں افراتفری کا وہ ماحول بنے کہ لوگ الیکشن کے بغیر ہی اقتدار ایکشن کمیٹی کو دینے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں اور یہ ڈھاکہ کی گلیوں جیسا منظر بن جائے۔ اس معاملے میں دیر کرنا اس لیے مفید نہ خیال کیا گیا کہ الیکشن ہو جانے کی صورت میں تو آزاد کشمیر میں ممکن ہے ایک توانا حکومت وجود میں آجائے اور غیر سیاسی ایکشن کمیٹی کی سیاست کاری غارت ہو کر رہ جائے۔


بہرحال اب 38 مطالبات میں سب سے اہم مطالبہ بظاہر 12 مہاجرین نشستوں کا خاتمہ ہے لیکن جو غم و غصہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے خلاف بعض مظاہرین اور ان کے قائدین ظاہر کر رہے ہیں وہ معاملہ اس سے کہیں آگے کی منزلوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس تناظر میں بس اتنا کہہ کر آگے بڑھتے ہیں کہ پاکستان کے جغرافیے پر نظر رکھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان کے اطراف میں موجود دشمن اس صورتحال کو کتنا اہم سمجھ رہا ہوگا کہ پاکستان کے مغرب اور شمال مغرب سے لے کر شمال سے جنوب تک ہر جگہ افراتفری دشمنوں کو بہت عزیز اور مفید ہو سکتی ہے۔ اس لیے معاملے کو زیادہ سمجھداری سے ڈیل کرنے کی ضرورت ہے۔


اگر سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادتوں کو اپنے سے تھوڑا بھی اوپر اٹھ کر سوچنے کی فرصت ہو تو یہ پاک وطن ان کی سیاست و حکمرانی کا گہوارہ اور ان کی آئندہ نسلوں کے لیے 25 کروڑ عوام کا باڑہ پھر بھی رہے گا۔ کہ اس میں لوٹ مار کی قدیمی روایت نے اسے ان کے اقتدار کا راجواڑہ بنا دیا ہے۔ اس لیے اگر بڑے اور تجربہ کار سیاست دان اسے تباہ ہونے سے بچانے کے لیے الیکشن مہم کے علاوہ بھی سنجیدگی دکھانا شروع کریں تو عنایت ہو گی۔


اہم ترین ظاہر کیے جانے والے اس مطالبے کا بھی حل موجود ہے۔ یہ ضمانت تو شاید کسی کے دینے کی نہ ہو کہ سیاسی جماعتیں 12 مہاجر نشستوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال نہ کریں گی۔ جس طرح کے اس امر کی ضمانت نہیں ہے کہ بقیہ آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان کو لوٹے بنا بنا کر ان کی خرید و فروخت کا دھندا چھوڑ دیا جائے گا۔ کیونکہ یہ دھندا تو پاکستان کی یہ اسمبلی حتیٰ کہ سینیٹ تک اپنا لوہا منوا چکا ہے اور آج کل بھی اس کی راہ میں رکاوٹ کوئی نہیں۔


اس سے ہٹ کر البتہ کچھ تجاویز پیش خدمت ہیں:
• مہاجر نشستوں پر الیکشن لڑنے والوں کے لیے لازم کر دیا جائے کہ وہ بھی آزاد کشمیر کے رہائشی ہوں گے۔ مراد یہ کہ لاہور، کراچی، اسلام آباد، پنڈی، پشاور، دیگر شہروں، قصبوں میں بھلے یہ مہاجرین کشمیر اپنے گھر اور جائیدادیں بھی رکھیں، رہائش بھی مگر ان کے لیے لازم ہوگا وہ آزاد کشمیر میں بھی رہائش رکھیں اور ان کے کچھ 'سٹیکس' آزاد کشمیر میں بھی ہوں۔ ان کے آزاد کشمیر میں 'سیٹل' ہونے کے لیے انہیں وقت اور سہولت دی جائے۔
• اگر یہ پہلے سے اسمبلی کے رکن بن چکے ہوں تو بھی انہیں ایک خاص مدت تک مہلت دی جائے کہ وہ آزاد کشمیر میں اپنی رہائش منتقل کریں۔
• ان مہاجرین کے ساتھ ان تمام لاکھوں کشمیری مہاجرین کو بھی پاکستان سے لا کر آزاد کشمیر میں بسایا جائے۔ جیسا کہ اسرائیل نے تو غیر قانونی طور پر بھی یہ اقدام کیا ہے اور یہودیوں کی عددی تعداد کو بڑھانے کے لیے یہودی بستیاں بنائی ہیں۔ آزاد کشمیر میں ان مہاجرین کی آباد کاری کی سکیمیں متعارف کرایا جانا تو عین قانونی اور جائز ہوگا۔ کہ کشمیر کی تعمیر و ترقی میں بھی کردار ادا کر سکیں اورکشمیر کی 'ڈیمو گرافی' تبدیل کرنے کی جن سازشوں کا بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں اہتمام کیا جا رہا ہے کم از کم آزاد کشمیر میں اس کا توڑ کیا جا سکے۔
• کشمیر اسمبلی کو بیرونی اثرات سے بچانے کے لیے امریکہ و برطانیہ میں بسنے والے کشمیریوں کے فنڈز کو سیاسی جماعتوں، غیر سیاسی گروہوں اور ان کے قائدین کے لیے ممنوع قرار دیا جائے۔ تاکہ بیرونی اسٹیبلیشمنٹس کے اثرات بھی آزاد کشمیر کی خودداری و خود مختاری خریدنے کے لیے بروئے کار نہ لا سکیں۔
• مقامی کشمیریوں اور مہاجرین کشمیر کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کے لیے پراپیگینڈے اور اقدامات کو ممنوع کرتے ہوئے قابل سزا جرم قرار دیا جائے۔
• سیاسی و آئینی امور میں دلچسپی رکھنے والوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ آزاد کشمیر کی منتخب اسمبلی کو ہی اس سلسلے میں پالیسی و فیصلہ سازی کا اختیار دیں۔ اسمبلی ارکان بھی ماضی کی غلطیوں سے گریز کریں۔
• آزاد کشمیر کے عوام کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے جس میں تجدید عہد کریں کہ وہ کشمیر کی آزادی کے 'بیس کیمپ' کے امین ہونے کے ناطے اپنے فرائض سے غافل نہیں ہوں گے اور کشمیر کی آزادی کو ہر صورت اپنی ترجیح بنائیں گے۔
• مقبوضہ کشمیر کو بھی آزاد کرانے کی پالسییوں کی حمایت کرتے رہیں گے اور کسی کو بھی کوئی ایسا اقدام نہیں کرنے دیں گے جو اہل کشمیر کو تقسیم کرنے یا کمزور کرنے کا سبب ہو۔
• تمام وزراء، سابق وزراء، ارکان اسمبلی و سابق ارکان اسمبلی کے علاوہ اہم شخصیات، ریٹائرڈ سرکاری حکام اور تاجروں کے اثاثہ جات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا غیر جانبدار ادارہ قائم کیا جائے جو سب کے اثاثوں کی تیز رفتاری سے بڑھنے کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق مؤثر کارروائی کی سفارش کرے۔
• چھوٹے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں۔ مہنگائی بڑھانے والوں کا قلع قمع کیا جائے اور گورننس کو بہترین بناتے ہوئے آپریشن کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اقربا پروری، برادری ازم، فرقہ واریت اور لسانیت کی بنیاد پر تقسیم اور تفریق کا سد باب کیا جائے۔ کیونکہ اصل مسئلہ کرپشن کا ہونا اور اچھی گورننس نہ ہونا ہے۔ یہی مسائل کی جڑ ہے۔
• گرفتار کیے گئے افراد میں سے ان کو فوری رہا کر دیا جائے جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ باقی کے ساتھ بھی قانون کے مطابق اور دیانتداری سے نمٹا جائے۔


پاکستان کی مسلح افواج آزاد کشمیر کے لیے فصیل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی شہرت اور شناخت کے خلاف کسی بھی حرکت اور کارروائی کو فوری روکا جائے۔ حکام بھی اپنے ہاں اس احساس کو اجاگر کریں کہ فوج کو آزاد کشمیر میں متنازعہ بنا دیا گیا تو بھارت مئی 2025 کا بدلہ لینے کے لیے موقع ضائع نہ کرے گا۔ خیال رہے ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی نئی جنگ کا آغاز بھی بظاہر تاجروں اور دکانداروں کی ایک تحریک کے باعث ہی ہوا تھا۔

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size