.

مصر: سینا میں کار بم حملہ ، 29 فوجی ہلاک

صدر السیسی نے حملے کے بعد قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سینا میں ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں انتیس فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

مصر کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق سینا کے سرحدی علاقے کرم القوادیس میں جمعہ کی دوپہر ایک چیک پوائنٹ پر فوج کی دو بکتر بند گاڑیوں کو باردو سے بھری کار سے نشانہ بنایا گیا ہے۔دونوں گاڑیاں جونہی چیک پوائنٹ پر آکر رکیں تو ان کے نزدیک بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

قبل ازیں قاہرہ سے العربیہ کے نمائندے نے اس کار بم دھماکے میں دس فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ متعدد فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے سینا کے صوبائی دارالحکومت العریش کے نزدیک واقع علاقے سے زوردار دھماکے کی آواز سنی تھی۔

مصری فوجیوں پر اس تباہ کن بم حملے کے بعد صدر عبدالفتاح السیسی نے صورت حال پر غور کے لیے قاہرہ میں قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

جزیرہ نما سینا میں گذشتہ اتوار کو سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں سات فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے تھے۔اس حملے سے تین روز قبل شمالی سینا کے صوبائی دارالحکومت العریش میں اسی طرح کے ایک اور بم دھماکے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ستمبر میں سینا میں دو بم دھماکوں میں سترہ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔اس علاقے میں مصری سکیورٹی فورسز سے برسر پیکار انصار بیت المقدس نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ان بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔

مصر کے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی گذشتہ سال جولائی میں (تب) مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے مختلف جنگجو گروپ سینا میں مصری سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ان میں انصار بیت المقدس سب سے نمایاں ہے۔اسی گروپ کی تشدد آمیز کارروائیوں کی پاداش میں مصری حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا حالانکہ اس جماعت کا موقف ہے کہ وہ پُرامن ہے اور اس کا دہشت گردی اور اس تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مصری سکیورٹی فورسز اسرائیل اور غزہ کی پٹی کی سرحد کے ساتھ واقع جزیرہ نما سینا میں گذشتہ ایک سال کے دوران اسلامی جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کے باوجود ان کا مکمل قلع قمع کرنے میں ناکام رہی ہیں۔اکتوبر میں اب تک مصری فورسز نے انصار بیت المقدس کے ایک کمانڈر سمیت بائیس جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی ہے اور اس تنظیم نے بھی اپنے ان جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

شام میں جاری خانہ جنگی میں حصہ لینے والے مصریوں نے 2011ء میں وطن لوٹنے کے بعد انصار بیت المقدس تنظیم قائم کی تھی۔اس میں شامل زیادہ تر جنگجو علاقے میں آباد بدّو ہیں اور ان میں سے بعض کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دولت اسلامیہ شام وعراق (داعش) میں بھی شامل رہے ہیں۔اس تنظیم کی قیادت نے داعش کے خلیفہ کی بیعت تو نہیں کی ہے۔البتہ وہ اس جنگجو گروپ کی حامی ہے۔