.

ایران میں بلوچ اور اہل سنت کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں: جیش العدل

پاکستان اور القاعدہ سے کوئی تعلق نہیں: صلاح الدین فاروقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان سے متصل ایران کے صوبہ بلوچستان میں مسلح کارروائیوں میں سرگرم تنظیم’’جیش العدل‘‘ کے سربراہ صلاح الدین فاروقی نے کہا ہے کہ وہ ایران میں بلوچ عوام اور اہل سنت مسلک کے پیروکاروں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہماری یہ جنگ مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گی۔

صلاح الدین فاروقی نے ان خیالات کا اظہار’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے فارسی ویب پورٹل کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ جیش العدل کے سربراہ نے حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی بارڈر فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں اور ان میں ایران کو پہنچنے والے جانی ومالی نقصانات کی تفصیلات بھی بتائیں۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر فاروقی کا کہنا تھا کہ ایران نے صوبہ سیستان بلوچستان میں اہل سنت مسلک کے پیروکاروں اور بلوچ عوام کے بنیادی حقوق غصب کر رکھے جس کی بناء پرانہیں ہتھیار اٹھانا پڑے ہیں۔ ایرانی حکومت بلوچ قوم کے حقوق دبانے کے لیے جتنی طاقت کا استعمال کرے گی ہم اسی قدر مزاحمت کریں گے کیونکہ ہمیں مسلح جدوجہد کی حکمت عملی اختیار کرنے پرتہران حکومت نے خود مجبور کیا ہے۔

صلاح الدین فاروقی نے انکشاف کیا کہ ان کی تنظیم’’جیش العدل‘‘ نے بلوچ قوم اوراہل سنت سمیت ملک بھر کی دیگر اقلیتوں کےبنیادی حقوق کے حصول کے لیے ایران میںوفاقی نظام حکومت تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیش العد ایران میں شیعہ۔ سُنی کے درمیان فرقہ وارانہ بنیادوں پر نہیں لڑ رہی اور نہ ہی ہم ایرانی حکومت کے ساتھ فرقہ ورانہ جنگ کررہے ہیں۔ ہمارے مطالبات کا محور بلوچ اور اہل سنت مسلک کے لوگوں کے بنیادی حقوق ہیں۔

فاروقی نے جیش العدل اوراہل سنت مسلک کی دیگر شدت پسند تنظیموں اور القاعدہ جیسے انتہا پسند گرپوں کے ساتھ تعلقات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ جیش العدل کا القاعدہ کے ساتھ کوئی رشتہ ناطہ نہیں۔ اس نوعیت کی جتنی افواہیں گردش کررہی ہیں وہ سب ایرانی حکومت کی جانب سے اڑائی گئی ہیں جن کا مقصد عالمی اور اسلامی دنیا کی رائے عامہ کو گمراہ کرنا ہے۔

دفاعی جنگ کا دعویٰ

جیش العدل کے سربراہ سے جب پوچھا گیا کہ وہ ایران اور پاکستان کی سرحد پرایرانی فورسز پرمسلسل مسلح کارروائیاں کیوں کررہی ہے؟ تو اس کا کہنا تھا کہ جیش العدل اقدامی جنگ نہیں بلکہ دفاعی جنگ لڑ رہی ہے۔ ہم صرف اہل سنت اور بلوچ قوم کے حقوق کے لیے جدو جہد ک رہے ہیں۔ بلوچوں کے ساتھ جب تک ظلم وتعدی کا سلسلہ جاری رہے گا ہم جنگ جاری رکھیں گے۔

صلاح الدین فاروقی کا کہنا تھا کہ ہماری جتنی بھی عسکری کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ سب دفاعی ہیں۔ ہم جنگ میں عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ خود ایرانی فوج کے ہاتھوں نسل کشی کا سامنا کررہے ہیں۔ سولین کو قتل کرنا شرعا جرم ہے۔ ہم 35 سال سے بلوچ قوم کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ ہماری جنگ عقیدے اور مذہب کی بنیاد پرنہیں۔ ہم تمام مذاہب کے مقدس مقامات کی حفاظت اوران کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ ایران کے موجودہ مقتدرنظام نے بلوچوں کو غربت، محرومی اور ظلم کے سوا کچھ نہیں دیا۔

تکفیری جہادی گروپوں سے تعلقات کے سوال پرجیش العد کے سربراہ نے کہا کہ انتہا پسندی کا مظاہرہ ایرانی حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور ہم پرالقاعدہ اور دیگر تکفیری گروپوں سے تعلقات کا بھونڈا الزام تھوپ کرعالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 27 اکتوبر 2013ء کو جیش العدل نے ایران کے صوبہ بلوچستان میں کارروائی کرکے ایرانی بارڈر فورسز کے 14 اہلکار ہلاک کردیے تھے۔ اس واقعے کے رد عمل میں ایران نے زیرحراست 16 بلوچ کارکنوں کو عجلت میں پھانسی دے دی تھی۔ 22 مارچ 2014ء جند اللہ کے سربراہ عبدالرئوف ریگی کنے یرغمالی ایرانی فوجیوں کے قتل کے معاملے پرجیش العدل کے ساتھ اختلاف یپدا ہوئے العدل مغوی ایرانی اہلکاروں کو قتل کرنے کے خلاف تھی۔ اس اختلاف کی بنیاد پردونوں گروپوں میں علاحدگی ہوگئی۔

ایک سوال کے جواب میں صلاح الدین فاروقی نے کہا کہ ان کی تنظیم ایران کے زیرانتظام صوبہ بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں اپنے مراکزقائم کیے ہوئے ہے اور ہمارا پاکستان حکومت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔