.

البیش المرکہ کا کوبانی میں براہ راست مداخلت سے گریز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی کرد سکیورٹی فورسز البیش المرکہ نے شام کے سرحدی شہر کوبانی میں اپنے ہم نسل کردوں کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف براہ راست لڑائی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے بجائے وہ اب توپ خانے کے زریعے کرد جنگجوؤں کی مدد کریں گے۔

اس بات کا اعلان کردستان کی علاقائی حکومت کے ترجمان صفین دضائی نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔قبل ازیں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے یہ اطلاع دی تھی کہ شام میں کردوں کی مرکزی جماعت نے عراق کے البیش المرکہ کی مدد لینے سے انکار کردیا ہے۔اس کرد جماعت کا عسکری ونگ ہی اس وقت کوبانی میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی مدد سے داعش کے جنگجوؤں کی مزاحمت کررہا ہے اور اس نے گذشتہ ایک ماہ سے اس شہر پر داعش کا قبضہ نہیں ہونے دیا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوآن نے غیرملکی دورے میں اپنے ہم سفر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی کردوں کی جماعت ڈیمو کریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی) کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ عراقی کرد جنگجوؤں کی آمد سے شام کے شمالی علاقے میں اس کے اثرورسوخ میں کمی واقع ہوجائے گی۔

ترک اخبارات ملت اور حریت میں شائع ہونے والے بیان کے مطابق انھوں نے پی وائی ڈی کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ''اس جماعت کا خیال ہے کہ اگر البیش المرکہ ادھر کوبانی میں آگئے تو اس کا ڈھانچا تہس نہس ہوجائے گا اور اس کا کھیل ختم ہوجائے گا''۔

عراقی کردستان کے صدر کے چیف آف اسٹاف نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ البیش المرکہ فورسز ترک حکومت کے ساتھ نظام الاوقات طے ہونے اور شامی کردوں سے معاملات طے پانے کے بعد ترکی کے سرحدی راستے سے کوبانی جانے کو تیار ہیں۔

کوبانی میں اس وقت قریباً دو ہزار کرد جنگجو داعش کے خلاف لڑرہے ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اتحادی جنگی طیاروں کی فضائی مدد کی بدولت ہی اپنے ٹھکانے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ترکی نے گذشتہ جمعرات کو البیش المرکہ فورسز کے دو سو جنگجوؤں کو کوبانی میں جانے کی اجازت دی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ترکی نے عراق اور شام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو اپنے سرحدی علاقے سے گذر کر جنگ زدہ کوبانی میں جانے کی اجازت دی تھی۔تاہم ترک وزیراعظم احمد داؤداوغلو نے اپنے ملک سے تعلق رکھنے والے کردوں کو کوبانی میں جا کر لڑنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا اور یہ واضح کیا تھا کہ صرف شامی مہاجرین ہی لڑنے کے لیے اپنے ملک میں واپس جا سکتے ہیں۔

درایں اثناء امریکی فوج اور اس کے تحادیوں نے کوبانی کے آس پاس آج داعش کے اہداف کے خلاف پانچ فضائی حملے کیے ہیں۔اتحادی طیاروں نے عراق کے شمالی علاقوں میں بھی داعش کے بارہ ٹھکانوں کو اپنے فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔