.

اسرائیل نے سویڈن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کرنے پر اسرائیل نے سخت احتجاج کرتےہوئے سویڈن میں تعینات اپنے سفیر کو صلاح مشورے کے لیے واپس بلا لیا ہے۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی’کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے پر سویڈن کے خلاف احتجاج کے بعد اسٹاک ہوم میں متعین اپنے سفیر یتزحاک بادحمان کو واپس بلا لیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو سویڈش وزارت خارجہ کی جانب سے آزاد اور مکمل طور پر ایک خود مختار فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یورپی یونین کے رکن ممالک میں سے سویڈن پہلا ملک ہے جس نے کھل کر فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سویڈش حکومت کے اس فیـصلے پر فلسطینی اتھارٹی نے خیر مقدم کیا ہے اور فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے ایک بیان میں اسے ’’تاریخ ساز‘‘ فیصلہ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے حسب روایت سویڈش حکومت کے فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے حل کے لیے جاری مساعی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور اس کا فائدہ صرف انتہا پسند گروپوں کو ہو گا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ آوی گیڈور کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ سویڈن جیسےایک روشن خیال ملک نے یک طرفہ طورپر فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے۔

فلسطین کے حامیوں میں اضافہ

درایں اثناء مقبوضہ بیت المقدس میں سویڈن کی خاتون قونصل جنرل انسوفی نلسن نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن حکومت نے درست وقت میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سویڈش حکومت کے اعلان سے فلسطین اور اسرائیل دونوں کو فائدہ ہو گا۔ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنےسے امن مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ سویڈن فلسطینی ریاست کی حمایت کرنے والے 135 ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ چونکہ سویڈن یورپی یونین کا ممبر ملک ہے اور یورپی یونین نے بھی ’مناسب وقت‘ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ رکن ممالک پر فلسطینی ریاست کو انفرادی طور پر تسلیم کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ سویڈن سمجھتا ہے کہ وہ مناسب وقت اب آ چکا ہے۔ اسٹاک ہوم کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے قافلے میں مزید اضافہ ہو گا۔

مسز نلسن کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو جلد ازجلد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دینا چاہیے۔ ہمیں موجودہ حالات میں تنازع کا دو ریاستی حل کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے کیونکہ مذاکرات معطل ہیں، یہودی آبادکاری زور وشور سے جاری ہے اور بیت المقدس میں ایک نئی کشیدگی پیدا ہو چکی ہے۔ ایسے میں فلسطینی ریاست کا مستقبل مخدوش دکھائی دیتا ہے۔