.

غزہ :بارڈر کراسنگ پردھماکے میں فلسطینی شہید

الخلیل میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے فلسطینی کی شہادت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں ایک سرحدی گذرگاہ پر ایندھن کے ایک ٹرک میں دھماکے کے نتیجے میں ایک فلسطینی نوجوان شہید اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

غزہ کی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا ہے کہ دھماکا اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے درمیان واقع کیرم شالوم بارڈر کراسنگ کے نزدیک فلسطینی علاقے میں ہوا ہے۔

فلسطینی حکام نے فوری طور پر اس امر کی تصدیق نہیں کی ہے کہ یہ واقعہ حادثاتی طور پر رونما ہوا ہے یا کسی حملے کا نتیجہ ہے۔البتہ اسرائیلی اور فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ بظاہر دھماکا حادثاتی طور پر ہوا ہے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ بارڈر کراسنگ کا یہ علاقہ اسرائیلی وزارت دفاع کے تحت ہے اور اس تک کارکنوں کی رسائی صرف مخصوص اجازت نامے سے ہی ممکن ہے۔اس گذرگاہ سے اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں تجارتی سامان منتقل کیا جاتا ہے۔اہلِ غزہ عام طور پر اسرائیل سے ڈیزل ،گیسولین اور کھانا پکانے کے لیے گیس خرید کرتے ہیں۔

غرب اردن میں جھڑپ

ادھر غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں تشدد کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے اوراسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔اس دوران اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شہید کردیا ہے۔

اسرائیلی فوجیوں نے الخلیل کے نزدیک واقع مرکزی شاہراہ پر بائیس سالہ عماد جوابرح کو سیدھی سینے میں گولیاں ماری ہیں۔اسرائیل نے گذشتہ روز فلسطینیوں کے دو مہلک چاقو حملوں کے بعد غرب اردن کے بڑے شہروں میں سکیورٹی مزید سخت کردی ہے اور فوجیوں کو تعینات کردیا ہے جبکہ تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں پولیس کے اضافی یونٹ تعینات کردیے گئے ہیں۔

غرب اردن کے شہروں میں تشدد کے یہ واقعات اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے اور مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد الاقصیٰ میں یہود کی دراندازوں کے ردعمل میں پیش آئے ہیں۔ گذشتہ روز مقبوضہ بیت المقدس کے نزدیک واقع ایک یہودی بستی میں بس اسٹاپ پر فلسطینی حملہ آور نے مبینہ طور پر چاقو کے پے درپے وار کرکے ایک یہودی آباد کار عورت کو ہلاک اور دو افراد کو زخمی کردیا تھا۔