.

اسرائیلی بوکھلاہٹ، کولمبین وزیر خارجہ کو رام اللہ نہ جانے دیا

پہلے اسرائیل آئیں اور رام اللہ کے سفر کی وجوہات بتائیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کولمبیا کی حکومت نے اس انکشاف کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کے دارلحکومت کے دورے پر جانے کی خواہش مند کولمبین وزیر خارجہ ماریہ انجیلا ہالگوئین کو رام اللہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔

کولمبیا کی وزارت خارجہ نے باضابطہ طور 3 نومبر کو اسرائیلی وزارت خارجہ کو خط لکھا کہ وزیر خارجہ رام اللہ جانا چاہتی ہیں ۔اس لیے انہیں اس سلسلے میں ضروری سہولت دی جائے، لیکن اسرائیل نے انکار کر دیا۔

کولمبیا کی وزارت خارجہ کی طرف سے لکھے گئے خط میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ وزیر خارجہ اپنے فلسطینی ہم منصب ریاض المالکی سے ملاقات کریں گی ، نیز اس دوے کے موقع پر ان کی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔

لیکن اس کے باوجود اسرائیل نے تقاضا کیا کہ رام اللہ کے سفر کی وجوہات بیان کی وضاحت کی جائے، کیونکہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ انہیں رام اللہ جانے اور فلسطینی قیادت سے ملنے کی اجازت دی جائے۔

ایک سینئیر اسرائیلی ذمہ دار نے بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجازت نہ دینے کا فیصلہ اسرائیلی وزیر خارجہ لائیبرمین کی طرف سے ملنے والی ہدایات کی بنا پر کیا گیا۔

اسرائیل نہیں چاہتا تھا کہ رام اللہ کے دوروں کی اس طرح ایک نئی روایت قائم ہو جس سے بعد ازاں دوسرے ملک بھی فائدہ اٹھاتے ہوئے رام اللہ براہ راست جانا شروع کر دیں۔

اسرائیلی وزیر خارجہ کی طرف سے اپنی وزارت کو ہدایت کی گئی کہ کولمبیا کی وزیر خارجہ کے دفتر کو بتا دیا جائے ماریہ انجیلا صرف اس صورت رام اللہ جا سکیں گی کہ وہ پہلے اسرائیل میں اتریں اور بعد ازاں رام للہ جائیں۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل یروشلم پر اپنے کنٹرول کے دعوے کو عملی طور پر تسلیم کرانے کے لیے اس طرح کی قدغن لگاتا ہے۔ نیز نہیں چاہتا کہ فلسطینی اتھارٹی سے کوئی بیرونی شخصیت ملنے کے لیے آئے اور اسرائیلی قیادت سے نہ ملے۔

اسرائیل کی وزارت خارجہ کی طرف سے جواب پر کولمبیا کی وزیر خارجہ نے اسرائیل کی یہ شرط منظور کرنے کے بجائے اردن میں ہی فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ سے ملاقات کا فیصلہ کر لیا کیونکہ اردن کا دورہ پہلے سے ہی ان کے شیڈول میں شامل تھا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان ایمانویل ناشون نے اس صورت حال کے بارے میں کہا '' ہم نے کولمبیا کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کی وجہ سے کولمبیا کی وزیر خارجہ کو اسرائیل کے مختصر دورے کی دعوت دی تھی، لیکن ان کے شیڈول کے پہلے سے طے شدہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔''

ترجمان نے مزید کہا '' ہم کولبیا کی وزیر خارجہ کے دورہ اسرائیل کا جلد اہتمام کر لیں گے۔'' تاہم ایسا کب کیا جاتا ہے اس کی ترجمان نے کو ئی متعین وضاحت نہی کی ہے۔

اسرائیل حالیہ مہینوں میں بعض ملکوں کی طرف سے فلسطینی ریاست کے تسلیم کیے جانے کے اعلانات اور سفارشات کی وجہ سے فلسطینی رہنماوں سے بیرونی دنیا کے رابطوں پر پریشان ہے، اس لیے وہ اپنی اس بوکھلاہٹ میں اپنے دوست ملکوں کو بھی ناراض کرنے کی طرف مائل ہے۔