.

نوری المالکی کی حزب اللہ قیادت سے ملاقات

بشار الاسد نواز قوتوں کی مدد پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے سابق وزیر اعظم اور موجودہ نائب صدر اپنے سرکاری دورے پر لبنان پہنچے ہیں جہاں انہوں نے حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ اپنی دیرینہ حلیف شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی قیادت سے بھی ملاقات کی ہے۔

العربیہ ٹی وی کے ذرائع کے مطابق حزب اللہ کی قیادت سے ملاقات کا مقصد میں شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری بغاوت کی تحریک کچلنے کے لیے اپنے حامی عسکری گروپوں کی ہر ممکن مدد فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نوری المالکی نے بیروت میں حزب اللہ قیادت کےعلاوہ تحریک امل کے قائدین سے بھی ملاقات کی۔

نوری المالکی کے مقرب سمجھے جانے والے ایک ٹی وی چینل نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ مسٹر المالکی اور حزب اللہ قیادت نے شام میں صدر اسد کے خلاف جاری تحریک کلچنے کے لیے جنگجوئوں کو ہر ممکن وسائل کی فراہمی پر اتفاق کیا۔

حزب اللہ قیادت سے ملاقات کے دوران شامی باغیوں کے خلاف اپنے حلیف عسکری گروپوں کی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام پرعالمی برادری کے درمیان جاری بات چیت بھی زیربحث آئی۔ اس موقع پر گفتگو کرتےہوئے نوری المالکی نے کہا کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کا دفاع ایک مقدس فریضہ ہے۔

خیال رہے کہ حزب اللہ اور نوری المالکی کے کابین تعلقات نئے نہیں بلکہ سال ہا سال سے قائم ہیں تاہم جب سے شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کا اغاز ہوا ہے ایران، حزب اللہ اور نوری المالکی ایک دوسرے کے مزید قریب ہوگئے ہیں۔ نوری المالکی نے جب عراق میں زمام حکومت سنھبالی تو اس کے فوری بعد حزب اللہ اور ایران سے تعلقات مزید مستحکم کر لیے تھے۔

گذشتہ چار سال کے دوران شام میں عراقی اہل تشیع کے عسکری گروپ ابو الفضل العباس بریگیڈ اور حزب اللہ بشارالاسد کے دفاع میں ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ لڑ رہے ہیں۔