.

القاعدہ لیبیا کا سربراہ ترکی سے گرفتار ہو کر امریکا منتقل

اڑتالیس سالہ عبدالباسط کے خلاف امریکی قونصل خانے پر حملے کا مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں القاعدہ کے رہنما عبدالباسط کی گرفتاری کے حوالے سے بعض تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ اسے ایک ماہ قبل ترکی میں کس طرح گرفتار کیا گیا تھا۔

عبدالباسط جسے جلد بنغازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے حوالے سے عدالتی ٹرائل کا سامنا کرنا ہو گا پچھلے ماہ ترکی میں اس وقت گرفتار ہوا تھا جب وہ ایک جعلی پاسپورٹ پر ترکی میں داخل ہوا تھا۔

ترکی پولیس نے اسے امریکی سی آئی اے کے ساتھ ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے وقت عبدالباسط ایک لیبیائی شہری عواد عبداللہ کے نام سے پاسپورٹ لیے ہوئے تھا۔

تاہم اس کی گرفتاری ائیرپورٹ پر نہیں بلکہ اس گھر سے ہوئی جہاں وہ قیام پذیر تھا اور وہاں سے کسی جگہ نکلنے والا تھا۔
اس موقع پر سکیورٹی فورسز نے اس کے زیر استعمال دو لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لیے۔ بعدازاں اسے 24 نومبر کو اردن منتقل کر دیا گیا تاکہ امریکی قونصل خانے پر حملے کے الزام میں اس سے تفتیش کی جا سکے۔

لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بنغازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ گیارہ ستمبر 2012 کو کیا گیا تھا۔ اس حملے میں لیبیا کے لیے امریکی سفیر کی بھی ہلاکت ہوئی تھی۔

لیکن سی آئی اے نے القاعدہ کے اس 48 سالہ رہنما کی گرفتاری میں اپنے مبینہ طور پر شامل ہونے کی اطلاعات پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع نے بھی لیبیائی القاعدہ رہنما کے امریکا میں لائے جانے اور اسے مسلسل امریکا میں رکھے جانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

امریکا نے القاعدہ کے اس رہنما کو دنیا کے دس خطرناک دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ماہ ستمبر میں ایک ایسی دستاویز پر بھی دستخط کیے تھے جس میں عبدالباسط القاعدہ رہنما کو امریکا کے لیے غیر معمولی خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

چار بچوں کے باپ لیبیائی القاعدہ رہنما 1994 میں لیبیا سے لندن کا سفر کیا۔ جہاں اس نے القاعدہ کے نطریات کی تبلیغ شروع کر دی۔ اسی وجہ سے 2006 میں اس کے گھر سے اسے گرفتار کر کے کئی ماہ کے لیے حراست میں رکھا گیا تھا۔ تاہم بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

تب یہ لیبیا واپس چلا گیا اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے معاملات کو دیکھنے لگا۔ سنڈے ٹیلی گراف نے اس کے بارے میں لکھا کہ اس نے سینکڑوں عسکریت پسندوں کو مشرقی لیبیا میں قائم ایک تربیتی میں عسکری تر بیت دی۔

کانگریس کی رپورٹ کے مطابق یہ کمانڈر انیس صد اسی سے ایمن الظواہری کے قریب رہا ہے اور 1990 میں اس نے افغانستان کا سفر بھی کیا تھا۔ 2011 میں اسے ایمن الظواہری نے لیبیا میں القاعدہ کا سربراہ مقرر کیا۔ اب امکانی طور پر امریکی عدالت میں مقدمے کا سامنا کرے گا۔