شامی اسلحہ حزب اللہ تک نہیں پہنچنے دیں گے: اسرائیل
اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے ہاں اسلحہ اور بھاری ہتھیاروں تک لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی رسائی نہیں ہونے دی جائے گی۔
اسرائیل کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز قبل اسرائیل کے جنگی طیاروں نے مبینہ طور پر شام میں بمباری کی تھی جس میں دو حزب اللہ جنگجوئوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم صہیونی ریاست اس فضائی کارروائی کے بارے میں بالکل خاموش ہے۔ اس کی تصدیق کی گئی اور نہ ہی تردید کی جا رہی ہے۔
شامی حکومت کی جانب سے الزام عاید کیا گیا ہے یہ دمشق کے قریب اتوار کے روز دو الگ الگ مقامات پر اسرائیلی جنگی طیاروں نے بمباری کی تھی۔ شامی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں مبینہ طور پر اسرائیلی طیاروں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا یہ حملہ باغیوں کو براہ راست مدد فراہم کرنے کی اسرائیلی کوشش ہے۔
گذشتہ روز اسرائیلی وزیر برائے انٹیلی جنس امور یووال اشٹائنٹز نے ریڈٰیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ایک واضح دفاعی پالیسی ہے، جہاں تک اسرائیل کے لیے ممکن ہو گا وہ شام کے اسلحہ تک کسی دہشت گرد گروپ کی رسائی نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا اشارہ حزب اللہ کی جانب تھا جو پچھلے ساڑھے تین برس سے اسد رجیم کی حمایت میں جنگ لڑ رہی ہے۔
جب ان سے دمشق میں دو فضائی حملوں کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی تردید یا تصدیق کرنےسے انکار کر دیا۔
ادھر شام میں انسانی حقوق آبزرویٹری کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگی طیاروں کی مدد سے دمشق کے قریب دو اسلحہ ڈپوئوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود تباہ ہوگیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ دمشق میں اسلحہ کے سرکاری گوداموں پر بمباری تل ابیب نے کی ہے۔ یہ حملہ اس لیے کیا گیا تاکہ وہاں سے جدید ہتھیار جس میں ٹینک شکن، طیارہ شکن میزائل اور زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل شامل تھے حزب اللہ تک پہنچنے سے قبل تباہ کیے جا سکیں۔
اسرائیل کے بعض اخبارات نے شام میں اسرائیلی کارروائی کو تل ابیب کی موجودہ سیاسی کشیدگی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے اور لکھا ہے کہ دمشق میں اسرائیلی حملہ وسط مدتی پارلیمانی انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا حصہ ہے۔ یہ انتخابات 17 مارچ 2015ء کو ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم نیتن یاھو وسط مدتی انتخابات میں اپنی کامیابی یقینی بنانے کے لیے دشمن ممالک کی تنصیبات پرحملے کرکے اپنی عوامی مقبولیت بڑھا رہے ہیں۔
اسرائیل کے عسکری اور دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ شام اور حزب اللہ موجودہ پوزیشن میں اسرائیل کے کسی بھی حملے کا تباہ کن جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ تجزیہ نگار ڈینیئل نیسمن کا کہنا ہے کہ اگر شام میں کی گئی کارروائی کا جواب دمشق کی بجائے حزب اللہ کی جانب سے آ سکتا ہے حزب اللہ اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔
-
"اسرائیل نے ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکا"
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے ایران اور عالمی ...
مشرق وسطی -
اسرائیل: امریکا سے مزید 31 ایف- 35 طیارے حاصل کریگا
ان مہنگے ترین جنگی طیاروں کی ترسیل 2017 تک مکمل ہوگی
بين الاقوامى -
دمشق ہوائی اڈے کے قریب اسرائیلی طیاروں کی بمباری
شام کے سرکاری ٹی وی نے الزام عاید کیا ہے کہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے دارلحکومت ...
مشرق وسطی