تیل کی قیمتوں میں کمی، شامی امداد میں ایران کو مشکلات
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غٖیر معمولی کمی کے کی وجہ سے تیل کے ذرائع سے حاصل ہونے والی ایرانی آمدن میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ شامی حکام اور تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی کے نتیجے میں شام کے لیے ایران کی امداد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ صدر بشارالاسد اپنے خلاف تین سال سےجاری عوامی بغاوت کی تحریک کو ایران کی معاونت کے بل بوتے پر کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گذشتہ چار برسوں کے دوران جہاں شامی حکومت کے ذرمبادلہ کے ذخائر میں غیر معمولی کمی ہوئی وہیں اس کے نتیجے میں شامی لیرا کی قیمت بھی نچلی ترین سطح پر آ گئی ہے۔ تاہم اسے ایران کی طرف سے ملنے والی مادی اور معنوی حمایت نے سہارا دے رکھا ہے۔
شام میں تجارتی شعبے کے ایک سرکردہ عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ ’’اگر ہمیں ابتک ایران کی مسلسل مدد نہ مل رہی ہوتی تو ہم بحران پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہوتے۔ ہم نے ایران کی مدد کے بدلے میں تہران کو شام میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے۔ اس کے نتیجے میں ہم ابھی تک بغاوت کی تحریک کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
خیال رہے کہ شام کی اپنی تیل کی پیدوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے ایرانی تیل کی خریدو فروخت پر پابندیاں عاید کرکے دمشق کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔ رہی سہی کسر شدت پسند تنظیموں کی جانب سے تیل کے وسائل پر قبضے نے نکال دی ہے۔
شامی حکام کا کہنا ہے کہ سنہ2013 ء میں ایران نے دمشق کو 3 اعشاریہ 6 ارب ڈالر کی انشورنس سہولیات فراہم کرتے ہوئے شامی تیل کی مصنوعات کی خریداری کا اعلان کیا تھا۔ ایران نے تیل کے علاوہ ایک ارب ڈالر مالیت کی دوسری مصنوعات کی خریداری کی بھی یقین دہانی کرائی تھی۔
شام کی جانب سے رواں سال جون میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تیل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 50 فی صد کمی کے بعد بھی اپنا مالی تعاون جاری رکھے۔ ایران کے اس کی حامی بھری تھی تاہم اب خود ایران کو بشار الاسد کی مسلسل مدد مشکلات کی طرف لے جا رہی ہے۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق شامی وزیر اعظم وائل الحلقی رواں ہفتے ایران کا دورہ کریں گے جس میں وہ ایران سے شام کی تیل کی مصنوعات کی مزید خریداری کا نیا سودا کریں گے۔