.

داعش جنگجووں کی عراق سے شام فرار کی خبریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بلاد الرافدین کی فوج موصل کے مغربی علاقے تلفعر میں اپنے قدم جما رہی ہے تاکہ وہ ملک کے مغربی محاذ پر نزدیک تریب پوزیشن سے حملہ آور ہو سکے۔

دوسری جانب البیشمرکہ نامی کرد فورس موصل کے مغربی علاقے کوہ سنجار کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ اس کامیابی کے بعد البیشمرکہ کو علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لئے صرف چند علاقوں کو صاف کرانا باقی رہ گیا ہے جہاں انتہا پسند داعش کے عناصر پناہ لئے ہوئے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے کہ جب دوسری جانب داعش کے جنگجووں کی شام اور اندرون موصل فرار کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ دولت اسلامی کے خود ساختہ خلیفہ ابو بکر البغدادی کے نائب کی ہلاکت کے بعد داعش کے صفوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ تنظیم کو دوسری جانب اتحادی فوج کی تیز ہوتی ہوئی فوجی کارروائی کا بھی سامنا ہے جس کے باعث سے عراق کے اکثر شہروں میں بڑے پیمانے پر نقصان ہو رہا ہے۔

درایں اثنا عراقی وزارت دفاع نے الرمادی کے مشرقی علاقے الفلوجہ کے مختلف علاقوں میں 21 انتہا پسند دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ نیز شمالی تکریت کے الحجاج علاقے میں عراقی فوج پر ناکام حملے میں دس جنگجو مارے گئے۔

اس ساری صورتحال کے تناظر میں صلاح الدین کے سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ انتہا پسندوں نے جنوبی تکریت میں الضلوعیہ ہوائی اڈے کے قریب البوعیفان قبیلے کے آٹھ افراد کو ہلاک کیا ہے۔

عراق کے مشرقی علاقے دیالی کے گورنر عامر المجمعی نے بتایا کہ صوبے کے جنگ زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی سرداروں نے اپنے قبیلے کے نوجوانوں کو نیشنل گارڈز میں بھرتی کے لئے تیار کیا ہے تاکہ اپنے علاقے کو انتہا پسندوں کی دست برد سے محفوظ رکھ سکیں۔