.

شامی کردوں کی داعش کے زیرقبضہ ایک اور قصبے پر چڑھائی

کوبانی پر قبضے کے بعد کرد فورسز کی داعش کے مقابلے میں فتوحات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی کرد فورسز نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر کوبانی میں داعش کو شکست دینے کے بعد اب ایک اور سرحدی قصبے تل عبید کی جانب پیش قدمی شروع کی ہے۔اس قصبے پر بھی داعش کے جنگجوؤں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

تل عبید کوبانی سے 65 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔صوبے الرقہ میں واقع اس قصبے میں زیادہ تر کرد ہی آباد ہیں۔داعش کے جنگجو اس قصبے کو ترکی کے سرحدی علاقے کی جانب جانے آنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے چند ماہ قبل کردوں اور شامی باغیوں کو لڑائی میں مار بھگانے کے بعد اس قصبے پر قبضہ کیا تھا۔

شام کے کرد جنگجوؤں نے امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے فضائی حملوں کی مدد سے پندرہ روز قبل داعش کے جنگجوؤں کو کوبانی سے نکال باہر کیا تھا۔اس کے بعد سے ان کی فتوحات اور داعش کی پسپائی کا سلسلہ جاری ہے اور وہ اپنے زیر قبضہ علاقوں کو خالی کرتے جارہے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اتوار کو اطلاع دی تھی کہ شام کی کرد فورسز نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شمالی شہر کوبانی کے نواح میں واقع ایک تہائی دیہات پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے داعش کے جنگجوؤں کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوبانی کے بعد اب اگلی لڑائی تل عبید میں ہوگی۔کرد اور الرقہ کی انقلابی بریگیڈ سوموار کو صوبے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔

الرقہ سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن نے بتایا ہے کہ تل عبید کے آس پاس واقع دیہات میں کرد فورسز اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی پہلے ہی جاری ہے اور لوگ اپنی جانیں بچا کر سرحد پار ترکی کی جانب جارہے ہیں۔

ناعل مصطفیٰ کے نام سے اپنی شناخت کرانے والے اس کارکن کا کہنا ہے کہ ''تل عبید داعش کے لیے بڑی اہمیت کا حامل قصبہ ہے۔انھوں نے اس کے ارد گرد سرنگیں کھود دی ہیں اور وہ فصیلیں تعمیر کررہے ہیں۔لڑائی شروع ہوچکی ہے لیکن یہ بہت دیر چلے گی''۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ صوبہ حلب میں ایک اور محاذ پر داعش نے اپنی کمک بھیج دی ہے۔اس صوبے کے علاقوں منبج اور جربلوس میں داعش اور کرد جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں۔

درایں اثناء ادھر عراق کے شمالی شہر موصل کے نواح میں امریکی فوج کے ایک بیان کے مطابق کرد فورسز نے امریکا کی قیادت میں فضائی حملوں کی مدد سے داعش کے جنگجوؤں کے زیر قبضہ بعض علاقے واپس لے لیے ہیں اور ان پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔داعش کے خلاف لڑائی میں عراقی اور کرد فورسز کی یہ ایک اہم کامیابی ہے۔