ڈاکٹر مرسی اور اخوان کے قائدین پر فوجی عدالت میں نیا مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کی ایک فوجی عدالت میں آیندہ ہفتے سے برطرف صدر محمد مرسی سمیت اخوان المسلمون کے کم سے کم دوسو قائدین اور کارکنان کے خلاف سنہ 2013ء میں پرتشدد مظاہروں کے الزام میں ایک نیا مقدمہ چلایا جائے گا۔

مصر کے سرکاری خبررساں ادارے مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) کی اطلاع کے مطابق اخوان المسلمون کے مرشدِ عام محمد بدیع سمیت ایک سو اٹھانوے افراد کے خلاف 23 فروری سے اس مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوگا۔

ڈاکٹر مرسی کے خلاف اس سے پہلے سول عدالتوں میں چار مقدمات چلائے جارہے ہیں لیکن کسی فوجی جج کی عدالت میں ان کے خلاف یہ پہلا مقدمہ ہوگا۔ان پر جولائی 2013ء میں فوج کے سربراہ (اب صدر) عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد 14 اگست کو سویز شہر میں لوگوں کو تشدد پر اُکسانے اور پُرتشدد مظاہروں کی شہ دینے کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی سکیورٹی فورسز نے 14 اگست 2013ء کو قاہرہ میں ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف لگائے گئے دو احتجاجی کیمپوں کو بزور طاقت اکھیڑ دیا تھا اور ان کے سیکڑوں حامیوں کو ہلاک کردیا تھا۔

اس وقت ڈاکٹر مرسی کسی خفیہ مقام پر فوج کے زیر حراست تھے لیکن استغاثہ نے ان پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے لوگوں کو تشدد پر اکسایا تھا اور سویز میں ان مظاہروں کے دوران دو روز میں اکتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ مصر کی فوجی عدالتیں سخت اور فوری فیصلوں کے لیے مشہور ہیں اور ان میں مدعا علیہ کو بالعموم دفاع کا حق بھی نہیں دیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں