.

"رستم غزالی کو اہم انکشاف سے روکنے کے لئے قتل کیا گیا"

اسد حکومت پاسدران انقلاب، حزب اللہ کے بغیر باقی نہیں رہ سکتی: سعد حریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد الحریری نے کہا ہے کہ بشار الاسد حکومت کی بقا کا انحصار ایرانی پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کی موجودگی پر ہے۔ ان کے بغیر اسد حکومت برقرار نہیں رہ سکتی۔

واشنگٹن کے ویلسن سینٹر میں منعقد ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے سعد حریری نے انکشاف کیا کہ شامی محکمہ سراغرسانی کے مقتول سربراہ رستم غزالی نے اپنے قتل سے ایک دن پہلے الحریری کے سیٹلائیٹ چینل میں فون کر کے آن کیمرہ کچھ باتیں منکشف کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

ویلسن سینٹر ڈائِیلاگ میں ریسرچ سینٹرز، اخبارات و جرائد کے مدیران سمیت نامور امریکی اور دیگر غیر ملکی دانشوروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

بقول سعد حریری ہمیں نہیں معلوم رستم غزالی کیا بات کرنا چاہتے تھے، تاہم زندگی سے ان سے وفا نہ کی۔ ایسا ہی معاملہ شامی حکومت کے اہم عہدیدار غازی کنعان کے ساتھ ہوا، جنہوں نے خود کو پانچ گولیاں مار کر خودکشی کر لی تھی۔

رستم غزالی کے قتل سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں میں ایک بات شامی حکومت میں داخلی تقسیم سے متعلق بھی کی جا رہی ہے۔ بشار الاسد حکومت میں شامل بعض حلقے شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کی مداخلت جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہیں، جبکہ بعض حکومتی کارپرداز اس کے حامی ہیں۔ سابق لبنانی وزیر اعظم نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے بشار الاسد کے قریبی ساتھی جامع جامع کا بھی حال دیکھ لیا، جنہیں ایسے ہی اختلافات کی بھینٹ چڑھ کر زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ یہ ساری باتیں بشار الاسد حکومت کی حالات کر کمزور گرفت کا پتا دیتے ہیں۔

شامی حکومت کے طاقت کے زور پر قائم رہنے سے متعلق امکان پر بات کرتے ہوئے سعد حریری نے کہا کہ عملا حکومت گر چکی ہے۔ حزب اللہ اور پاسدران انقلاب نے جب القصیر معرکہ میں مداخلت کی تو ہمیں یقین بشار الاسد حکومت کا خاتمہ نوشتہ دیوار دکھائی دینے لگا۔ اس وقت شام میں بشار الاسد فوج کے وہ مٹھی بھر اہلکار 'داد شجاعت' دے رہے ہیں جنہیں براہ راست پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کمان کر رہے ہیں۔