.

مصر : اخوان کے مزید پانچ حامیوں کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے دارالحکومت قاہرہ کے نواحی علاقے میں ایک پولیس تھانے پر حملے میں تیرہ اہلکاروں کی ہلاکت کے مقدمے میں ماخوذ مزید پانچ افراد کو قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنا دی ہے۔

اس مقدمے میں فروری کے بعد سے اب تک اخوان المسلمون کے ایک سو تراسی ارکان کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔یہ پانچوں مدعاعلیہان بھی اس گروپ میں شامل تھے لیکن وہ مفرور تھے اور ان کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔انھیں بعد میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور اب سوموار کو انھیں بھی پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق مدعاعلیہان نے قاہرہ کے علاقہ کرادسہ میں 14 اگست 2013ء کو ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں تیرہ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ان پر قتل ،اقدام قتل اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت مختلف الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

قاہرہ کی جس عدالت نے کالعدم اخوان المسلمون کے ان کارکنان کے خلاف سزائے موت کے فیصلے سنائے ہیں،اس کے سربراہ جج محمد ناجی شہاتہ ہیں۔ان جج صاحب نے اخوان اور دوسری جماعتوں کے ہزاروں کارکنان کو تھوک کے حساب سے موت اور قید وبند کی سزائیں سنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سابق سربراہ جنرل (موجودہ صدر) عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی 2013ء کو مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ان کی برطرفی کے بعد فوج کی نگرانی میں قائم حکومت کے تحت سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں بیس ہزار سے زیادہ سیاسی ومذہبی کارکنان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان میں اخوان المسلمون کی تمام ادنیٰ و اعلیٰ قیادت شامل ہے۔

اب ان تمام مدعاعلیہان کے خلاف اجتماعی مقدمے چلائے جارہے ہیں اورہزاروں کو موت اور طویل مدت کی قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ایک مقدمے میں پانچ سو سے زیادہ اخوانیوں کو صرف دو روز کے ٹرائل کے بعد جج نے سزائے موت سنا دی تھی۔مصری عدالتوں کے فیصلوں پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے کڑی تنقید کی ہے اور ان کو انصاف کے خون کے مترادف قراردیا ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مصر میں جس طرح سیاسی کارکنان کو موت اور قید کی سزائیں سنائی جارہی ہیں،اس کی کہیں مثال نہیں ملتی ہے۔