'صدام کی آواز' طارق عزیز عراقی ہسپتال میں انتقال کرگئے

سابق نائب وزیر اعظم طویل عرصے سے علیل تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی آواز کے طور پر پہچانے جانے والے سابق نائب وزیر اعظم طارق عزیز 79 سال کی عمر میں سزائے موت کے انتظار میں عراق کے ذی قار صوبے کے ایک ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔

عراقی صوبے ذی قار کے ڈپٹی گورنر عادل عبدالحسین الداخلی نے بتایا کہ طارق عزیز کو صحت کی خرابی کی وجہ سے ناصریہ شہر کے حسین ٹیچنگ ہسپتال میں داخل کروایا گیا مگر وہ جانبر نہ رہ سکے۔

داخلی نے عزیز کی موت کی وجہ نہیں بتائی مگر انہیں بہت لمبے عرصے سے خرابی صحت، دل اور سانس کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر اور ضیابیطس کی شکایت تھی۔

ان کے خاندان نے کی بار ان کی رہائی کا مطالبہ کا اور سال 2011ء میں ان کے وکیل نے اس وقت کے صدر نوری المالکی سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے موکل اپنی خرابی صحت کی وجہ سے اپنی پھانسی کی سزا کے عمل کو تیز کرنا چاہتے ہیں۔

عزیز کو 1980 کی دہائی میں مذہبی جماعتوں کے خلاف کریک ڈائون کے دوران قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور اکتوبر 2010ء میں سزائے موت سنا دی گئی تھی۔

انہیں کئی دیگر جرائم کے الزام میں مختلف سزائیں سنائی گئی ہیں۔

صدام حسین کے ترجمان کے طور پر پہچانے جانے والے طارق عزیز سابق آمر کے قریبی حلقے میں شامل واحد عیسائی تھے۔ طارق کو بین الاقوامی طور پر صدام حسین کی آواز کے طور پر جانے جاتے تھے اور ان کی صدام حسین کے ساتھ وفاداری ان کی عراقی حکومت میں ترقی کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔

عزیز نے خود کو بغداد کی امریکی افواج کے ہاتھوں فتح کے کچھ ہی عرصے بعد خود کو نئی انتظامیہ کے حوالے کردیا تھا۔ 1983ء میں وزیر خارجہ اور 1991 میں نائب وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونیوالے طارق عزیز کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ انہیں فیصلہ سازی کا زیادہ اختیار حاصل نہیں تھا مگر وہ بین الاقوامی طور پر صدام حکومت کے سب سے مشہور نمائندے سمجھے جاتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں