.

خطرے کے پیش نظر داعشی خاندان رقہ سے حلب منتقل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" کے زیرقبضہ اہم شہر رقہ میں کُرد جنگجوئوں اور شامی باغیوں کے حملوں کے بعد ممکنہ خطرے کے پیش نظر تنظیم کی صفوں میں شامل ہونے والے غیرملکی جنگجوں اور ان کے اہل خانہ کو حلب کے شمالی علاقوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شمالی رقی میں عین عیسیٰ شہر کے بریگیڈ 93 پر کرد جنگجوئوں اورجیش الحر کے قبضے کے بعد وہاں پر دولت اسلامیہ کے جنگجوئوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

"مسار پریس" نامی ایک نیوز ویب پورٹل کی رپورٹ کے مطابق شمالہ رقہ اور اس کے مضافات میں کردوں اور جیش الحر کے ہاتھوں داعش کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رقہ کے شمالی شہروں میں لڑائی کے بعد کردوں نے تل ابیض، سولوک اور دسیوں ملحقہ قصبوں پر قبضہ کرنے کے بعد داعش کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والی تنظیم "آبزرویٹری برائے شام" کی رپورٹ کے مطابق داعشی جنگجوئوں نے کردوں اور جیش الحر کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر شمالی رقہ سے اپنے خاندان شمال مشرقی حلب کی جانب منتقل کرنا شروع کردیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شام اور عراق میں داعش کو کرد جنگجوئوں کے ہاتھوں کئی محاذوں پر شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل شام کے ترکی سے متصل علاقے عین العرب [کوبانی]، مشرق میں الحسکہ اور مغرب میں شمالہ رقہ کے کئی اہم مقامات پر کردوں اور جیش الحر کا قبضہ ان کی فتح اور داعش کی شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

تاہم کردوں کی یہ کامیابیاں اپنی جگہ اہم مگر ان پر مقامی عرب اور ترکمان باشندوں کے قتل عام کے الزامات بھی عاید کیے جاتے رہے ہیں۔