.

کویت میں دہشت گردی، 'حزب اللہ' سے 'داعش' تک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں جمعہ کے روز ہونے والے ہولناک خودکش بم دھماکے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ 80 کی دہائی میں اس خلیجی ریاست میں رونما ہونے والے دہشت گردی کی کارروائیوں نے ایک مرتبہ پھر کویت کا راستہ دیکھ لیا ہے، لیکن اس مرتبہ دہشت گردی کی کارروائیاں زیادہ ہلاکت خیز انداز میں تیل کی دولت سے مالا مال اس ریاست کے لئے بطور چیلنج سامنے آئیں ہیں۔

دسمبر 1983 میں کویت کی متعدد سرکاری تنصیبات اور غیر ملکی سفارتخانے دھماکوں کا نشانہ بنے۔ ان دھماکوں کے پیچھے لبنانی حزب اللہ کا ہاتھ تھا جس نے بارود سے بھری نو گاڑیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے دھماکوں کے اندر استعمال کیا۔

کویتی حکومت نے دھماکے کرنے والے گروپ اور اس کے سربراہ مصطفی بدرالدین کو گرفتار کر لیا۔ مصطفی بدرالدین ان دنوں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کا سربراہ ہے۔ اسے 1990 میں عراق پر حملے کے وقت بڑی پیمانے پر جیل ٹوٹنے کے کارروائیوں کے دوران رہا کرا لیا گیا تھا۔

مصطفی بدرالدین کی گرفتاری کے دوران کویت میں دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا، ان دھماکوں کے اعلانیہ مقاصد میں مصطفی بدر الدین کی رہائی کا مطالبہ سرفہرست ہوا کرتا تھا۔

کویت میں دہشت گردی کی نمایاں کارروائیاں

مئی 1985 میں کویت کے مرحوم امیر الشیخ جابر کو بارود سے لدی کار کے دھماکے میں شدید زخمی کیا گیا۔
اسی مہینے ایک عوامی ریستوران میں دھماکے کے نتیجے میں 11 افراد مارے گئے۔
جون 1987 میں اسلامی سربراہی اجلاس کے موقع پر بارود سے بھری گاڑی میں دھماکا کیا گیا۔
اپریل 1988 میں حزب اللہ کے دمشق میں مارے جانے والے کمانڈر عماد مغنیہ نے کویتی طیارہ اغوا کر کے اس کے دو مسافروں کو ہلاک کیا اور نعشیں دروازے سے باہر پھینک دیں۔ ہائی جیکروں کا مطالبہ تھا کہ مصطفی بدر الدین کو رہا کیا جائے،
جنوری 2005 میں کویت کے اندر القاعدہ کے دستوں کے ساتھ خونریز سیکیورٹی آپریشنز ہوتے رہے۔
چند برس کے امن کے بعد گذشتہ روز مسجد الصوابر میں وحشت ناک خودکش حملہ کیا گیا، جس کی ذمہ داری 'داعش' نے قبول کی۔